اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 261

اصحاب بدر جلد 5 261 اس پر حضرت عثمان کہنے لگے کہ تو نے سچ کہا ہے۔پھر لبید نے کہا: وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا فَحَالَةَ زَائِلٌ 590 کہ بیشک ہر نعمت زوال پذیر ہے۔حضرت عثمان نے کہا تو نے جھوٹ کہا۔لوگوں نے آپ کی طرف دیکھا اور لبید سے کہا کہ دوبارہ پڑھو جس پر لبید نے دوبارہ پڑھا۔حضرت عثمان نے اسی طرح ایک دفعہ تصدیق اور ایک دفعہ جھٹلا دیا کہ جنت کی نعمتوں کو زوال نہیں ہے۔لبید یہ جو شاعر تھے کہنے لگے کہ اے گر وہ قریش ! تمہاری محفلیں ایسی تو نہ تھیں۔ان میں سے ایک احمق کھڑا ہوا اور اس نے حضرت عثمانؓ کی آنکھ پر تھپڑ مار دیا یا مکا ماردیا جس سے آپ کی آنکھ نیلی ہوگئی یا سوج گئی۔آپ کے گرد موجو د لو گوں نے کہا عثمان ! خدا کی قسم ! تم ایک مضبوط پناہ میں تھے اور تمہاری آنکھ اس طرح تکلیف سے محفوظ تھی جو تمہیں ابھی پہنچی ہے۔اس پر عثمان نے کہا کہ اللہ کی امان زیادہ محفوظ ہے اور زیادہ معزز ہے اور میری دوسری آنکھ بھی اسی طرح کی مصیبت کی آرزومند ہے جو اس آنکھ کو پہنچی ہے۔مجھے رسول اللہ صلی علیم اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کی پیروی لازم ہے۔ولید نے کہا کہ میری امان میں تمہیں کیا نقصان تھا؟ اس پر حضرت عثمان نے کہا کہ مجھے اللہ کی امان کے سوا کسی کی امان کی حاجت نہیں۔یہ تھی ان لوگوں کے ایمان کی کیفیت اور یہ تھا ایک درد اپنے ساتھیوں کے لیے بھی کہ اگر وہ تکلیف میں ہیں تو ہم کیوں (بچے) رہیں بلکہ آنحضرت صلی علی یکم کے ساتھ جو تعلق تھاوہ تو تھا ہی محبت کا کہ وہ تکلیف میں ہیں تو میں کیوں بچوں۔صحابہ کے نمونے دیکھ کے بھی ان کو بڑی تکلیف پہنچتی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ عثمان بن مظعون کا اس طرح جواب دینا اس لیے تھا کہ انہوں نے قرآن کریم سنا ہوا تھا، اسلامی تعلیم سنی ہوئی تھی، قرآن کریم پڑھا ہوا تھا اور اب ان کے نزدیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں تھی بلکہ خود بعد میں لبید بھی مسلمان ہو گیا تو آپ لکھتے ہیں کہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا تھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے گورنر کو کہلا بھیجا کہ مجھے مشہور شعراء کا تازہ کلام بھیجو۔جب لبید جو اس وقت مسلمان ہو گئے تھے ان سے خواہش کا اظہار کیا گیا تو انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات لکھ کر بھیج دیں۔آنحضرت صلی الم سے پیار کا تعلق سة حضرت عثمان سے آنحضرت صلی لی ایم کا اور آپ کا جو رسول اللہ لی لی ایم سے تعلق اور پیار تھا اس کا اظہار اس واقعہ سے ہوتا ہے۔روایت میں آتا ہے کہ ان کے فوت ہونے پر رسول کریم صلی اللہ ہم نے انہیں بوسہ دیا اور آپ صلی للہ کم کی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری تھے۔جب رسول کریم ملی ای کم کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہوا تو آپ نے اس وقت بھی اس کی نعش پر فرمایا۔الْحَقِّ بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ عُثْمَانَ ابْنَ مَطْعُوْنَ یعنی ہمارے صالح عزیز عثمان بن مظعون کی صحبت میں جا۔591