اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 262

اصحاب بدر جلد 5 262 مدینہ کی طرف ہجرت اور مواخات حضرت عثمان بن مظعون کی مدینہ ہجرت کا واقعہ اس طرح ملتا ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت قدامہ بن مظعونؓ اور حضرت عبد اللہ بن مظعونؓ اور حضرت سائب بن عثمان نے ہجرت مدینہ کے وقت حضرت عبد اللہ بن سلمہ عجلانی کے گھر قیام کیا تھا۔ایک دوسرے قول کے مطابق یہ سب لوگ حضرت حِزام بن وَدِيعه کے ہاں قیام پذیر تھے۔محمد بن عمر واقدی بیان کرتے ہیں کہ آل مطعون ان لوگوں میں سے تھے جن کے مرد اور عورتیں سب کے سب جمع ہو کر ہجرت کے لیے روانہ ہوتے تھے اور ان میں سے کوئی مکہ میں باقی نہیں رہا۔حضرت ام علاء بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی لیلی کام اور مہاجرین مدینہ میں آئے تو انصار کی خواہش تھی کہ ان کے گھروں میں رکیں۔اس پر ان کے لیے قرعہ ڈالا گیا تو حضرت عثمان بن مظعون ہمارے حصے میں آئے۔آنحضور صلی ا ولم نے حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت ابو ھیثم بن تیهان کے درمیان مواخات کارشتہ قائم فرمایا۔592 زہد و عبادت 593 حضرت عثمان نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔آپ تمام لوگوں سے زیادہ جوش کے ساتھ عبادات بجالاتے تھے۔دن کو روزہ رکھتے تھے اور رات کو عبادت کیا کرتے تھے۔خواہشات سے بچ کر رہتے تھے اور عورتوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔آپ نے رسول اللہ صلی علیکم سے دنیا ترک کرنے اور خود کو خصّی کرنے کی اجازت مانگی مگر رسول اللہ صلی الم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔یہ تاریخ کی کتاب اسد الغابہ میں لکھا ہے۔13 پھر یہ روایت ہے کہ ایک دن حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ ازواج مطہرات کے پاس آئیں۔ازواج مطہرات نے انہیں پراگندہ حالت میں، میلے کپڑے، بال بکھرے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ تم نے ایسی حالت کیوں بنا رکھی ہے ؟ اپنے آپ کو سنوار کر رکھا کرو۔تمہارے شوہر سے زیادہ دولت مند تو قریش میں کوئی نہیں ہے۔یہ نہیں ہے کہ تم afford نہیں کر سکتی۔تمہارا شوہر بڑا امیر آدمی ہے اپنی حالت تو ٹھیک رکھو۔تو آپ کی ، حضرت عثمان کی بیوی ازواج مطہرات کو کہنے لگیں جو ساری اکٹھی بیٹھی ہوئی تھیں کہ ہمارے لیے ان میں سے کچھ نہیں ہے۔یعنی جو کچھ آپ کہتی ہیں نہ عثمان کے پاس دولت یا وہ کچھ نہیں۔کیوں ؟ کیونکہ وہ اس کے جذبات ہمارے لیے کچھ نہیں ہیں۔وہ رات کو بھی عبادت کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ہماری طرف توجہ نہیں دیتے۔دن کو روزے رکھتے ہیں۔نبی کریم صلی یکم تشریف لائے تو ازواج نے آپ کو بتایا۔عثمان کی بیوی کی یہ بات سن کر آنحضرت صلی علی یم حضرت عثمان سے ملے اور فرمایا کیا تمہارے لیے میری ذات میں اسوہ نہیں ہے ؟ وہ عرض کرنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔کیا بات ہوگئی ؟ حضرت عثمان نے کہا کہ میں تو کوشش کرتا ہوں کہ