اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 260
اصحاب بدر جلد 5 260 ہیں اور انہیں سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔چونکہ وہ غیرت مند نوجوان تھے۔ولید کے پاس گئے اور اسے کہہ دیا کہ میں آپ کی پناہ کو واپس کرتا ہوں کیونکہ مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے مسلمان دکھ اٹھائیں اور میں آرام سے رہوں۔چنانچہ ولید نے اعلان کر دیا کہ عثمان اب میری پناہ میں نہیں۔اس کے بعد ایک دن لبید، عرب کا ایک مشہور شاعر تھا مکہ کے رؤساء میں بیٹھا اپنے شعر سنا رہا تھا کہ اس نے ایک مصرع پڑھا: وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا فَحَالَةَ زَائِلٌ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر نعمت آخر مٹ جانے والی ہے۔عثمان بن مظعونؓ نے کہا کہ یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔لبید ایک بہت بڑا آدمی تھا۔یہ جواب سن کر جوش میں آگیا اور اس نے کہا کہ اے قریش کے لوگو! تمہارے مہمان کو تو پہلے اس طرح ذلیل نہیں کیا جاتا تھا اب یہ نیا راج کب سے شروع ہوا ہے ؟ اس پر ایک شخص نے کہا یہ ایک بیوقوف آدمی ہے اس کی بات کی پروا نہیں کریں۔حضرت عثمان نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا کہ بیوقوفی کی کیا بات ہے جو بات میں نے کہی ہے وہ سچ ہے۔اس پر ایک شخص نے اٹھ کر زور سے آپ کے منہ پر گھونسا مارا، مکا مارا جس سے آپ کی ایک آنکھ نکل گئی یا سوج گئی۔ولید اس وقت اس مجلس میں بیٹھا ہو ا تھا جس نے آپ کو پناہ دی تھی۔ان کے والد کا دوست، عثمان کے باپ کے ساتھ اس کی بڑی گہری دوستی تھی۔عثمان کے والد فوت ہو گئے تھے تو اپنے مردہ دوست کے بیٹے کی یہ حالت اس سے دیکھی نہ گئی مگر مکہ کے رواج کے مطابق جب عثمان اس کی پناہ میں نہیں تھے تو وہ ان کی حمایت بھی نہیں کر سکتا تھا اس لیے اور تو کچھ نہ کر سکا نہایت ہی دکھ کے ساتھ عثمان ہی کو مخاطب کر کے بولا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے خدا کی قسم تیری یہ آنکھ اس صدمہ سے بیچ سکتی تھی جبکہ تو ایک زبر دست حفاظت میں تھا ( یعنی میری پناہ ولید کی پناہ میں تھا) لیکن تو نے خود ہی اپنی پناہ کو چھوڑ دیا اور یہ دن دیکھا۔عثمان نے جواب دیا کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے میں خود اس کا خواہش مند تھا۔تم میری پھوٹی ہوئی آنکھ پر ماتم کر رہے ہو حالانکہ میری تندرست آنکھ اس بات کے لیے تڑپ رہی ہے کہ جو میری بہن کے ساتھ ہوا ہے وہی میرے ساتھ کیوں نہیں ہو تا۔لکھتے ہیں کہ انہوں نے کہا، عثمان نے ولید کو یہ جواب دیا کہ محمد رسول اللہ صلی علیم کا نمونہ میرے لیے بس ہے۔بہت کافی ہے۔اگر وہ تکلیفیں اٹھارہے ہیں تو میں کیوں نہ اٹھاؤں۔میرے لیے خدا کی حمایت کافی ہے۔89 عثمان بن مظعون اور لبید بن ربیعہ کا یہ جو واقعہ ہے جو عرب کا مشہور شاعر تھا اس کا اس طرح بھی تاریخوں میں ذکر ملتا ہے۔حضرت عثمان بھی اس کے پاس بیٹھ گئے لبید نے پہلے اس کا یہ ایک مصرع پڑھا کہ : 589 أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهُ بَاطِلٌ خبر دار ! اللہ کے سوا سب کچھ باطل ہے۔