اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 154
اصحاب بدر جلد 5 154 بہر حال اس کے دل میں شروع سے ہی نفاق تھا، منافقت تھی اور منافق بزدل ہو تا ہے اور یہ بزدلی یہاں آکے ظاہر بھی ہو گئی۔بہر حال اس کے اپنے سا پنے ساتھیوں سمیت جانے کے بعد مسلمانوں کی تعداد صرف سات سو رہ گئی تھی۔4 334 جنگ احد کے بعد عبد اللہ بن ابی بن سلول کا تمسخرانہ رویہ اس کے باوجو د جب جنگ ہوئی ہے تو اس میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا۔تقریباً فتح ہو گئی تھی لیکن آخر پر آنحضرت صلی لی کر کے حکم پر پوری طرح عمل نہ کرنے کی وجہ سے اور دڑہ چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔اس صورتِ حال کے بعد عبد اللہ بن ابی بن سلول کا جو رویہ تھا کس طرح کا تھا اور کس کس طرح اس نے آنحضرت صلی للی کم اور مسلمانوں کے بارے میں تکلیف دہ اور استہزا کی باتیں کرنی شروع کر دیں۔اس کی کچھ تفصیل اب میں بیان کروں گا۔اس میں حضرت عبد اللہ کی اسلام اور آنحضرت صلی علیکم سے محبت بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے لیے اپنے باپ کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے میں کوئی امر مانع نہ تھا اگر وہ اسلام کی عزت اور آنحضرت صلی یہ کم کی عزت پر حملے کرتا۔۔اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں شروع کا جو ذکر ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے تمسخر اڑانا شروع کیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ غزوہ احد کے بعد مدینے کے یہود اور منافقین جو جنگ بدر کے نتیجے میں کچھ مرعوب ہو گئے تھے اب کچھ دلیر ہو گئے بلکہ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے تو کھلم کھلا تمسخر اڑانا اور طعنے دینا شروع کر دیے۔سة 335 عبد اللہ بن ابی بن سلول کی دریدہ دہنی اور بیٹے کی محبت و فدائیت کا اظہار لیکن آپ صلی اللہ لکم ان لوگوں سے صرفِ نظر ہی فرماتے رہے اور بجائے اس کے کہ اس نرمی کے سلوک سے ان کو کچھ شرمندگی ہوتی یہ لوگ ڈھٹائی میں اور دریدہ دہنی میں بڑھتے چلے گئے۔رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی کی دریدہ دہنی اور اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ کی آنحضرت صلی اللی علم سے محبت اور فدائیت کا اظہار اس ایک واقعے سے ہو جاتا ہے کہ 5 ہجری میں غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر آنحضرت صلی علیم نے چند دن مریسیع میں قیام فرمایا۔یہ بنو مصطلق کے پانی کے ایک چشمے کا نام ہے۔مگر اس قیام کے دوران منافقین کی طرف سے ایک ایسا نا گوار واقعہ پیش آیا جس سے قریب تھا کہ کمزور مسلمانوں میں خانہ جنگی تک نوبت پہنچ جاتی مگر آنحضرت صلی یکم کی موقع شناسی اور آپ کے مقناطیسی اثر نے اس فتنے کے خطرناک نتائج سے مسلمانوں کو بچالیا۔واقعہ یوں ہوا کہ حضرت عمر کا ایک نو کر جھجاڈ نامی تھاوہ مریسیع کے مقامی چشمے پر پانی لینے کے لیے گیا۔اتفاقا اس وقت ایک دوسرا شخص سنان نامی بھی پانی لینے کے لیے وہاں پہنچا جو انصار کے خلیفوں میں سے تھا۔یہ دونوں شخص جاہل تھے اور بالکل عامی لوگوں میں سے تھے۔چشمے پر یہ دونوں شخص آپس میں جھگڑ پڑے اور جھجان نے سنان کو ایک ضرب لگائی، اس کو مارا۔بس پھر سنان نے زور زور سے شور مچانا شروع