اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 155
155 اصحاب بدر جلد 5 کر دیا، چلانا شروع کر دیا کہ اے انصار کے گروہ ! میری مدد کو پہنچو کہ میں پٹ گیا اور مجھ پر حملہ ہو گیا۔جب جَهْجَان نے دیکھا کہ سنان نے اپنی قوم کو بلایا ہے تو وہ بھی جاہل آدمی تھا، اس نے بھی اپنی قوم کے لوگوں کو پکار ناشروع کر دیا کہ اے مہاجرین ابھا گو دوڑو۔انصار اور مہاجرین کے کانوں میں یہ آوازیں پہنچیں تو وہ اپنی تلواریں لے کر بے تحاشا اس چشمے کی طرف لپکے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک اچھا خاصا مجمع جمع ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جاہل نوجوان ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے لیکن اتنے میں بعض سمجھ دار اور مخلص مہاجرین وانصار بھی موقعے پر پہنچ گئے اور انہوں نے فور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے صلح صفائی کروادی۔عزت والا شخص۔آنحضرت صلی للی کم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک جاہلیت کا مظاہرہ ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور بہر حال اس طرح معاملہ بہر حال رفع دفع ہو گیا لیکن جب منافقین کے سردار عبد اللہ بن اُبی بن سلول کو جو اس غزوے میں شامل تھا جو بنو مصطلق میں تھا، جس میں آپ گئے تھے اس میں شامل تھا اس واقعے کی اطلاع پہنچی تو اس بدبخت نے اس فتنے کو پھر جگانا چاہا اور اپنے ساتھیوں کو آنحضرت صلی ال یکم اور مسلمانوں کے خلاف بہت کچھ اکسایا اور یہ کہا کہ یہ سب تمہارا قصور ہے کہ تم نے ان بے خانماں، بے سہارا مسلمانوں کو پناہ دے کر ان کو سر پر چڑھا لیا ہے۔اب بھی تمہیں چاہیے کہ ان کی مدد سے ان کی اعانت سے دست بردار ہو جاؤ۔پھر یہ خود بخود مدینے کو چھوڑ چھاڑ کر چلے جائیں گے اور بالآخر اس بدبخت نے یہاں تک کہہ دیا کہ لَبِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَدُّ مِنْهَا الْأَذَلَ - (المنافقون: 9) که قرآن شریف میں، سورۃ المنافقون میں ہے کہ یعنی دیکھو تو اب مدینے میں جاکر عزت والا شخص یا گر وہ جو ہے وہ ذلیل شخص یا گروہ کو اپنے شہر سے باہر نکال دیتا ہے کہ نہیں؟ اس وقت ایک مخلص مسلمان بچہ زید بن ارقم بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا اس نے عبد اللہ کے منہ سے آنحضرت صلی اللی کام کے متعلق یہ الفاظ سنے تو بے تاب ہو گیا اور فوراً اپنے چچا کے ذریعے آنحضرت صلی یہ کام کو اس واقعے کی اطلاع دی۔اب یہ دیکھیں کہ بچے بھی کسی حد تک اخلاص اور وفار کھتے تھے اور بڑے ہوشیار رہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کیا بات غلط ہے اور کیا صحیح۔بہر حال اس نے اپنے چچا کو اطلاع دی۔اس وقت آنحضرت صلی ال نیم کے پاس حضرت عمرؓ بھی بیٹھے تھے۔وہ یہ الفاظ سن کر غصے اور غیرت سے بھر گئے اور آنحضرت صلی اللہ ہم سے عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق فتنہ پرداز کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرما یا عمر ! جانے دو۔کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ لوگوں میں یہ چر چاہو کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا پھرتا ہے۔پھر آپ نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ یہ بات میں نے سنی ہے۔وہ سب قسمیں کھا گئے کہ ہم نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی۔بعض انصار نے بھی بطریق سفارش، سفارش کے طور پر یہ عرض کیا کہ زید بن ارقم کو غلطی لگی ہوگی یہ اس طرح بات نہیں کر سکتا۔آپ نے اس وقت عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بیان کو قبول فرمالیا اور زید کی بات رڈ کر دی جس سے زید کو سخت تکلیف پہنچی اور صدمہ ہوا مگر بعد میں قرآنی وحی نے