اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 153
اصحاب بدر جلد 5 153 گشتی میں اسے گرا لیتا ہوں۔باپ کو بیٹے کے اس اخلاص پر بڑی خوشی ہوئی۔اسے ساتھ لے کر وہ آنحضرت صلی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کی خواہش بیان کی۔آنحضرت صلی علی کلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اچھا یہ بات ہے تو پھر رافع اور سمرہ کی کشتی کروا دیتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ کون زیادہ مضبوط ہے۔چنانچہ مقابلہ ہوا اور واقعہ میں سمرہ نے تھوڑی دیر میں ہی رافع کو اٹھا کر دے مارا، پچھاڑ دیا جس پر انحضرت صلی ا لم نے سمرہ کو بھی ساتھ چلنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس معصوم بچے کا دل خوش ہو گیا۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول رئیس المنافقین نے غداری کی اب چونکہ شام ہو چکی تھی اس لیے بلال نے اذان کہی اور صحابہ نے آنحضرت صلی الم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔پھر رات کے واسطے مسلمانوں نے یہیں ڈیرے ڈال دیے اور آنحضرت صلی ال کلم نے رات کے پہرے کے لیے محمد بن مسلمہ کو منتظم مقرر فرمایا جنہوں نے پچاس صحابہ کی جماعت کے ساتھ رات بھر لشکر اسلامی کے ارد گرد چکر لگاتے ہوئے پہرہ دیا۔دوسرے دن یعنی 15 شوال 3 ہجری جو 31 مارچ 624 عیسوی بنتی ہے ہفتے کے دن سحری کے وقت یہ اسلامی لشکر آگے بڑھا اور راستے میں نماز ادا کرتے ہوئے صبح ہوتے ہی احد کے دامن میں پہنچ گیا۔اس موقعے پر عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین نے غداری کی اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر سے ہٹ کر یہ کہتا ہو ا مدینے کی طرف واپس لوٹ گیا کہ محمد صلی علیم نے میری بات نہیں مانی اور ناتجربہ کار نوجوانوں کے کہنے میں آکر باہر نکل آئے ہیں اس لیے میں ان کے ساتھ ہو کر نہیں لڑ سکتا۔بعض لوگوں نے بطور خود اُسے سمجھایا کہ یہ غداری ٹھیک نہیں ہے مگر اس نے ایک نہیں سنی اور یہی کہتا گیا کہ یہ کوئی لڑائی ہوتی ہے۔اگر لڑائی ہوتی تو میں شامل ہو تا مگر یہ لڑائی نہیں ہے بلکہ خود کو ہلاکت کے منہ میں ڈالنا ہے۔اب مسلمانوں کی طاقت صرف سات سو لوگوں پر مشتمل تھی جو کفار کے تین ہزار سپاہیوں کے مقابلے میں چوتھائی حصے سے بھی کم تھی۔332 بہر حال جنگ ہوئی۔333 جب آنحضرت صلی ا لم نے نوجوانوں کی بات مان کر مدینے سے باہر جاکر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تو عبد اللہ بن ابی پہلے تو اپنے ساتھیوں سمیت ساتھ چل پڑا لیکن احد کے دامن میں پہنچ کر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر غداری دکھاتے ہوئے مدینے کی طرف یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ محمد رسول اللہ صلی ال ولم نے میری بات نہیں مانی اور مدینے میں رہ کر دشمن کا دفاع نہیں کیا جو ہم چاہتے تھے اور یہ بھی کہا کہ یہ بھی کوئی لڑائی ہے۔یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے اور وہ کہنے لگا کہ میں اس ہلاکت میں اپنے آپ کو نہیں ڈالتا۔