اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 522
اصحاب بدر جلد 5 522 تمام کیا۔حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بیچ کر یہ اعلان کیا کہ مسیلمہ کو سیاہ غلام نے قتل کر دیا ہے۔اس لیے یہ بھی زیادہ امکان ہے کہ وحشی نے قتل کیا۔حضرت خالد نے مُجماعہ کے ذریعے مسیلمہ کی لاش کا پتا معلوم کروایا۔متجاعہ نے حضرت خالد سے کہا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں آنے والے لوگ جلد باز اور ناتجربہ کار تھے۔تمام قلعے جو ہیں وہ بڑے تجربہ کار فوجیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کی طرف سے میرے سے صلح کر لیں اگر اب جنگ کی تو مسلمانوں کا اور زیادہ نقصان ہو گا۔بڑی چال چلی اس نے۔حضرت خالد نے متجاعہ سے اس شرط پر صلح کر لی کہ صرف جانیں معاف کر دی جائیں گی، تمہیں چھوڑ دیا جائے گا، کچھ نہیں کہا جائے گا، قیدی نہیں بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ ہر شے پر مسلمان قبضہ کر لیں گے۔متقاعہ ہو شیار آدمی تھا اس نے کہا کہ میں قلعے والوں کے پاس جاتا ہوں اور ان سے مل کر مشورہ کر کے آتا ہوں۔مسیلمہ تو قتل ہو چکا تھا اس لیے طاقت تو ان کی ٹوٹ چکی تھی لیکن اس کی ہوشیاری پھر ان کافروں کے کام آئی۔مُجاعہ قلعے میں آیا تو وہاں سوائے عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کے اور کمزوروں کے اور کوئی بھی نہیں تھا۔اس نے یہ چال چلی کہ عورتوں کو زرہیں پہنائیں اور ان سے کہا کہ میری واپسی تک تم قلعے کی فصیل پر جا کر اوپر کھڑی ہو جاؤ اوپر اور جنگ کا شعار جو ہے برابر بلند کرتی رہو۔حضرت خالد کے پاس آکر اس نے کہا کہ جس شرط پر میں نے تم سے صلح کی تھی قلعے والے اسے نہیں مانتے، یعنی جانوں کی آزادی اور باقی سب مال مسلمانوں کا۔اور ان میں سے بعض اپنے انکار کے اظہار کے لیے فصیلوں پر نمودار ہیں اور میں ان کی ذمہ داری نہیں لے سکتا، وہ میرے قابو سے باہر ہیں۔حضرت خالد نے قلعوں کی طرف دیکھا تو وہاں دیکھا کہ وہ سپاہیوں سے بھرے ہوئے تھے ، عورتوں نے وہ لباس پہنے ہوئے تھے اس کی چال کی وجہ سے وہاں کھڑی تھیں۔اس شدید لڑائی میں خود مسلمانوں کو نقصان پہنچا تھا، لڑائی بہت طویل ہو گئی تھی مسلمان چاہتے تھے کہ فتح حاصل کر کے جلد واپس چلے جائیں چنانچہ حضرت خالد نے مجاعہ سے اس شرط پر صلح کر لی کہ تمام سونا چاندی مویشی اور نصف لونڈی و غلام حضرت خالد کے قبضہ میں دے دیے جائیں گے اور ایک قول کے مطابق چوتھائی قیدیوں پر صلح کر لی۔اس جنگ میں مسلمانوں کی جانب سے مدینے کے مہاجرین و انصار میں سے تین سو ساٹھ اور مدینے کے علاوہ تین سو مہاجرین شہید ہوئے جبکہ بنو حنیفہ میں سے عقربا کے میدان میں سات ہزار اور باغ میں سات ہزار اور فرار ہونے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے بھی سات ہزار کفار کو قتل کیا گیا۔جب یہ لشکر مدینہ واپس پہنچا تو حضرت عمر نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ تو زید سے قبل کیوں نہ شہید ہوا۔زید شہید ہو گیا جبکہ تو ابھی بھی زندہ ہے، کیوں نہ تم نے مجھ سے اپنا چہرہ چھپالیا۔اس پر حضرت عبد اللہ نے عرض کیا کہ حضرت زید نے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگی اور اللہ نے انہیں وہ عطا کر دی اور میں نے اس کی کوشش کی کہ میری طرف بھی لائی جائے مگر مجھے وہ حاصل نہ ہو سکی۔بہر حال اسی سال جنگ