اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 521

اصحاب بدر جلد 5 521 کے پاس تھا لیکن وہ شہید ہو گئے تھے اور انصار کا جھنڈا حضرت ثابت بن قیس کے پاس تھا۔گھمسان کی جنگ ہوئی اور وہ جنگ ایسی تھی کہ مسلمانوں کو اس سے پہلے ایسی جنگ کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔اس جنگ میں مسلمان پسپا ہو گئے اور بنو حنیفہ کے لوگ مُتجاعہ کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے، جس کو حضرت خالد نے قیدی بنایا تھا اور حضرت خالد بن ولید کے خیمہ کا قصد کیا، وہاں گئے اس طرف بڑھے۔اس وقت حضرت خالد کی بیوی خیمے میں تھی۔ان لوگوں نے حضرت خالد کی بیوی کو قتل کرنا چاہا تو مجاعه نے کہا کہ میں نے اسے پناہ دی ہے، انہیں قتل کرنے سے روک دیا۔مُجاعہ نے انہیں مردوں پر حملہ کرنے کا کہا اس پر وہ خیمے کو کاٹ کر چلے گئے۔جنگ پھر سخت ہو گئی اور قبائل بنو حنیفہ سب مل کر سخت حملہ کرنے لگے۔اس روز کبھی مسلمانوں کا پلڑا بھاری ہوتا کبھی کافروں کا۔اس جنگ میں حضرت سالم، حضرت ابو حذیفہ ، حضرت زید بن خطاب جیسے معزز صحابہ کرام شہید ہوئے۔مسیلمہ کذاب کا قتل حضرت خالد نے جب مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے ہر قبیلے کو الگ الگ ہونے کا حکم دیا تاکہ مصائب کا اندازہ لگایا جاسکے اور معلوم ہو سکے کہ کہاں سے مسلمانوں پر حملہ کیا جا رہا ہے۔اسی طرح جنگ میں صفوں کو الگ الگ درست کیا تو مسلمان ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آج کے دن ہم کو فرار کرنے میں شرم محسوس ہو رہی ہے یعنی بڑی قابل شرم بات ہے جو ہمارا حال ہو رہا ہے۔مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ کوئی مصیبت کا دن نہ تھا۔مسیلمہ ابھی تک اپنی جگہ پر قائم تھا اور کفار کی طرف سے جنگ کا مرکز تھا۔حضرت خالد نے یہ پتا کر لیا یہ ان کو احساس ہو گیا کہ جب تک اسے قتل نہیں کیا جائے گا تب تک جنگ بند نہیں ہو گی۔اس پر حضرت خالد آگے نکلے اور انہوں نے مبارزت طلب کی اور جنگی شعار کا نعرہ لگایا جو اس وقت یا محمد الہ تھا۔جو بھی میدان میں آیا تو وہ قتل ہوا۔اس پر مسلمان حرکت میں آئے۔پھر حضرت خالد نے مسیلمہ کو پکارا۔وہ سامنے نہیں آیا اور بھاگ گیا اور اپنے ساتھیوں سمیت ہی اپنے باغ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا اور باغ کا دروازہ بند کر دیا۔مسلمانوں نے اس باغ کا محاصرہ کر لیا۔حضرت براء بن مالک نے کہا کہ اے مسلمانو! تم مجھے دیوار پر چڑھا کر اندر اتار دو۔بڑے جرات مند، بہادر شخص تھے۔مسلمانوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے مگر حضرت بر الٹا نہیں مانے اور اصرار کیا کہ آپ لوگ مجھے کسی طرح اس باغ کے اندر ڈال دیں۔چنانچہ مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھایا اور وہاں سے وہ دشمنوں میں کود پڑے اور باغ کے اندر چلے گئے۔اندر جاکے انہوں نے دروازہ کھول دیا۔مسلمان باغ کے اندر داخل ہوئے۔پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔وحشی نے مسیلمہ کو قتل کیا ہو۔حشی وہی ہے جس نے آنحضرت صلی علیہ یکم کے چا حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا۔بہر حال ایک روایت کے مطابق وحشی اور ایک انصاری نے مشترکہ طور پر مسیلمہ کو قتل کیا تھا۔وحشی نے اپنا بھالا مسیلمہ کی طرف پھینکا اور انصاری نے اپنی تلوار سے اس پر وار کیا۔دونوں نے ایک ہی وقت میں وار کیا تھا اس لیے بعد میں وحشی کہا کرتے تھے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم میں سے کس کے وار نے اس کا کام شخص و