اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 514 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 514

اصحاب بدر جلد 5 514 بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی۔رسول کریم صلی علیم نے پہلے تو کچھ دیر تامل فرمایا مگر پھر آپ نے اس کی بیعت لے لی اور اس طرح دوبارہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔1193 اور بھی بہت ساری باتیں تھیں جس کی وجہ سے، فتنہ اور فساد کی وجہ سے اور بھڑ کانے کی وجہ سے بھی یہ حکم دیا گیا تھا۔صرف ایک ہی وجہ نہیں تھی کہ یہ مرتد ہو گیا تھا اس لیے قتل کا حکم دے دیا۔مکہ سے ہجرت رض عاصم بن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت وہب نے مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی تو آپ نے حضرت کلثوم بن ھدم کے ہاں قیام کیا۔حضرت رسول اللہ صلی علیم نے حضرت وہب اور حضرت سويد بن عمرو کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا یعنی یہ دونوں بھائی بنے تھے۔شہادت آپ دونوں جنگ موتہ کے دن شہید ہوئے۔حضرت وَهُب غزوہ بدر، احد ، خندق اور حدیبیہ اور خیبر میں شریک ہوئے اور آپ جمادی الاولی 8 ہجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔شہادت کے روز آپ کی عمر 40 سال تھی۔1194 جنگ موتہ کیا تھی یا اس کے اسباب کیا تھے ؟ اس کا طبقات الکبریٰ میں کچھ ذکر ہے۔یہ جنگ جمادی الاولی سنہ 8 ہجری میں ہوئی۔رسول اللہ صلی الی یکم نے حضرت حارث بن عمیر کو قاصد بنا کر شاہ بضری کے پاس خط دے کر بھیجا۔جب وہ موتہ کے مقام پر اترے تو انہیں شرخبيل بن عمر و غشاني، (شرحبیل جو تھا وہ سیرۃ الحلبیہ کے مطابق قیصر کے شام پر مقرر کر دہ امراء میں سے ایک تھا، اس) نے روکا اور ان کو شہید کر دیا۔حضرت حارث بن عمیر کے علاوہ رسول اللہ صلی اللی نیم کا اور کوئی قاصد شہید نہیں کیا گیا۔جب آنحضرت صلی علی کلم نے فرمایا کہ ان سب کے امیر حضرت زید بن حارثہ ہیں اور ایک سفید جھنڈ ا تیار کر کے حضرت زید کو دیتے ہوئے یہ نصیحت کی کہ حضرت حارث بن عمیر جہاں شہید کیے گئے ہیں وہاں پہنچ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے۔نہیں تو ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مد دما نگیں اور ان سے جنگ کریں۔حضرت وهب بھی اس جنگ میں شامل تھے۔اس جنگ کی تفصیل مزید بیان کر دیتا ہوں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے سر یہ موتہ کے لیے حضرت زید بن حارثہ کو امیر مقرر فرمایا۔پھر رسول اللہ صلیم نے فرمایا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر امیر ہوں گے اور اگر جعفر" بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ تمہارے امیر 1195 ہوں گے۔اس لشکر کو جیش امراء بھی کہتے ہیں۔1196