اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 515
اصحاب بدر جلد 5 515 اس کی تفصیل میں حضرت مصلح موعودؓ نے اتنا ہی لکھا ہے کہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس وقت وہاں قریب ہی ایک یہودی بھی بیٹھا تھا۔اس نے جب آنحضرت صلی لی ایم کی بات سنی تو حضرت زید کے پاس آیا اور آکر کہا کہ اگر محمد صلی الی یکم سچے ہیں تو تم تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کے واپس نہیں آئے گا۔اس پر حضرت زید نے کہا کہ میں زندہ بچ کے آؤں یا نہ آؤں لیکن یہ بہر حال سچ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی علیم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول اور نبی ہیں۔1197 اس جنگ کے حالات کی، شہدا کی آنحضرت صلی علی نام کو خبر اللہ کی طرف سے ہوئی۔اس بارے میں ایک روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی یکم نے فرمایا کہ زید نے جھنڈا لیا اور وہ شہید ہوئے۔پھر جعفر نے اسے پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر عبد اللہ بن رواحہ نے جھنڈے کو پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔یہ خبر دیتے ہوئے آنحضور صلی علیکم کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔پھر آپ نے فرمایا کہ پھر جھنڈے کو خالد بن ولید نے بغیر سر دار ہونے کے پکڑا اور انہیں فتح حاصل ہوئی۔1198 اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔19 1199 317) حضرت یزید بن ثابت حضرت یزید بن ثابت ایک بدری صحابی تھے ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو مالك بن نجار سے تھا۔حضرت یزید کے والد کا نام ثابت بن ضحاك اور والدہ کا نام نوار بنت مالک تھا۔حضرت یزید حضرت زید بن ثابت کے بڑے بھائی تھے۔1200 اور حضرت یزید بن ثابت نے دبيّة بنت ثابت سے شادی کی تھی۔اور یہ بھی ان کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت یزید بن ثابت غزوہ بدر اور احد دونوں میں شامل ہوئے تھے۔شہادت 1201 حضرت یزید بن ثابت کی شہادت 12 ہجری میں حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں جنگ یمامہ کے روز ہوئی جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق جنگ یمامہ کے روز انہیں ایک تیر لگا تھا اور واپسی پر راستے میں ان کی وفات ہوئی تھی۔1202