اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 513
513 316) اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب حضرت وهب بن سعد بن ابی سرح حضرت وهب بن سعد بن ابی سرح "۔حضرت وہب کے والد کا نام سعد تھا۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عامر بن لؤی سے تھا۔آپ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے بھائی تھے۔آپ کی والدہ کا نام مھانہ بنت جابر تھا جو اشعری قبیلہ سے تھیں۔1192 عبد اللہ بن ابی سرح کا ارتداد اور پھر اسلام لانا تھا۔حضرت وہب کا بھائی عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح وہی کاتب وحی تھا جس نے ارتداد اختیار کر لیا الله سة ان کے بھائی کے بارے میں اس واقعے کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان کی ہے کہ رسول کریم صلی این کیک کا ایک کاتب وحی تھا جس کا نام عبد اللہ بن ابی سرح تھا اور سیرۃ الحلبیہ میں لکھا ہے کہ یہ حضرت عثمان بن عفان کا رضاعی بھائی تھا۔بہر حال پھر آپ لکھتے ہیں کہ آپ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اسے بلوا کر لکھوا دیتے تھے۔ایک دن آپ سورۃ المومنون کی آیت 14 اور 15 لکھوار ہے تھے۔جب آپ یہاں پہنچے کہ ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ تو یہ جو کاتب وحی تھا اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ سورۃ المومنون کی آیت 15 میں اس کا ذکر ہے۔رسول اللہ صلی علی یکم نے فرمایا کہ یہی وحی ہے اس کو لکھ لو۔اس بدبخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجے میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔اس نے سمجھا کہ جس طرح میرے منہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ صلی علیکم نے اسے وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپ نعوذ باللہ خود سارا قرآن بنارہے ہیں۔چنانچہ وہ مرتد ہو گیا اور سکے چلا گیا۔فتح مکہ کے موقع پر جن لوگوں کو قتل کرنے کا رسول کریم علی ایم نے حکم دیا تھا ان میں ایک عبد اللہ بن ابی سرح بھی تھا مگر حضرت عثمان نے اسے پناہ دے دی۔اور اس پناہ کی تفصیل یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب عبد اللہ بن ابی سرح کو معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی علیم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو یہ اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان بن عفان کے پاس ان کی پناہ لینے چلا گیا اور ان سے کہنے لگا کہ اے بھائی اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ میری گردن ماریں مجھے ان سے امان دلوا دو۔سیرۃ الحلمية میں لکھا ہے۔بہر حال حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ وہ آپ کے گھر میں تین چار دن چھپارہا۔ایک دن جبکہ رسول کریم صلی علیکم مکے کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو حضرت عثمان عبد اللہ بن ابی سرح کو