اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 28
اصحاب بدر جلد 5 28 مر دوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کس شخص کی خلافت کے حق میں ہے ؟ سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمان کی خلافت منظور ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ خلیفہ ہو گئے۔90 یہ تاریخوں کے حوالے سے حضرت مصلح موعود کا بیان ہے۔فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ حضرت طلحہ حضرت عمر کی وصیت کے وقت حاضر نہ تھے۔یہ ممکن ہے کہ وہ اس وقت حاضر ہوئے جب حضرت عمرؓ کی وفات ہو چکی تھی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت حاضر ہوئے جب مشاورت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ایک روایت کے مطابق جسے زیادہ درست قرار دیا گیا ہے۔وہ حضرت عثمان کی بیعت کے بعد حاضر ہوئے تھے۔91 رض بہر حال حضرت عثمان خلیفہ منتخب ہوئے اور پھر یہ نظام معمول پر آنے لگا۔جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو تمام لوگ حضرت علی کی طرف دوڑتے ہوئے آئے جن میں صحابہ اور اس کے علاوہ تابعین بھی شامل تھے۔وہ سب یہی کہہ رہے تھے کہ علی امیر المومنین ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کے گھر حاضر ہو گئے۔پھر انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔پس آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے کیونکہ آپ اس کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔اس پر حضرت علی نے فرمایا یہ تمہارا کام نہیں ہے بلکہ یہ اصحاب بدر کا کام ہے جس کے بارے میں اصحاب بدر راضی ہوں تو وہ خلیفہ ہو گا۔پس وہ سب اصحاب بدر حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔پھر انہوں نے عرض کی ہم کسی کو آپ سے زیادہ اس کا حق دار نہیں دیکھتے۔پس اپنا ہاتھ بڑھائیں کہ ہم آپ کی بیعت کریں۔آپؐ نے فرمایا طلحہ اور زبیر کہاں ہیں ؟ سب سے پہلے آپ کی زبانی بیعت حضرت طلحہ نے کی اور دستی بیعت حضرت سعد نے کی۔جب حضرت علی نے یہ دیکھا تو مسجد گئے اور منبر پر چڑھے۔سب سے پہلا شخص جو آپ کے پاس او پر آیا اور انہوں نے بیعت کی وہ حضرت طلحہ تھے۔سے کے پاس اوپر اور ط اس کے بعد حضرت زبیر اور باقی اصحاب نے حضرت علی کی بیعت کی۔92 حضرت طلیحہ اور حضرت زبیر اور حضرت عائشہ وغیرہ نے حضرت علی کی بیعت کی تھی یا نہیں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔یہ ذکر آپ اپنی ایک تقریر میں کر رہے ہیں جہاں خواجہ کمال الدین صاحب کے بعض اعتراضوں کے جواب میں آپ نے یہ ذکر فرمایا اور یہ ذکر بیان کرنا انتہائی ضروری ہے اس لیے میں بیان کر رہا ہوں۔آپؐ ، حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ : طلحہ اور زبیر اور حضرت عائشہ کے بیعت نہ کرنے سے آپ حجت نہ پکڑیں۔" یعنی خواجہ صاحب کو کہہ رہے ہیں۔" ان کو انکارِ خلافت نہ تھا بلکہ حضرت عثمان کے قاتلوں کا سوال تھا۔پھر میں آپ کو بتاؤں جس نے آپ سے کہا ہے کہ انہوں نے حضرت علی کی بیعت نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔حضرت عائشہ تو اپنی غلطی کا اقرار کر کے مدینہ جا بیٹھیں اور طلحہ اور زبیر نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کر لی۔چنانچہ چند حوالہ جات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔" خصائص کبریٰ کی جلد ثانی کا حوالہ ہے۔حاکم نے روایت کی ہے۔عربی حصہ ہے وہ میں چھوڑتا ہوں۔ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔