اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 27

اصحاب بدر جلد 5 89 27 27 نزدیک افضل ہے۔اس بات نے دونوں بزرگوں کو خاموش کر دیا یعنی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔پھر حضرت عبد الرحمن نے کہا کیا آپ اس معاملے کو میرے سپرد کرتے ہیں اور اللہ میر انگران ہے کہ جو آپ میں سے افضل ہے اس کو تجویز کرنے کے متعلق کوئی بھی کمی نہیں کروں گا۔ان دونوں نے کہا اچھا۔پھر عبد الرحمن ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کے الگ لے گئے اور کہنے لگے آپ کا آنحضرت صلی علیہ کم سے رشتہ کا تعلق ہے اور اسلام میں بھی وہ مقام ہے جو آپ بھی جانتے ہیں۔اللہ آپ کا نگران ہے۔بتائیں اگر میں آپ کو امیر بناؤں تو کیا آپ ضرور انصاف کریں گے ؟ اور اگر میں عثمان کو امیر بناؤں تو آپ اس کی بات سنیں گے اور ان کا حکم مانیں گے ؟ پھر حضرت عبد الرحمن دوسرے کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی ویسے ہی کہا۔جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو کہنے لگے عثمان آپ اپنا ہاتھ اٹھائیں اور انہوں نے ان سے بیعت کی اور حضرت علی نے بھی ان سے بیعت کی اور گھر والے اندر آگئے اور انہوں نے بھی ان سے بیعت کی۔یہ بخاری کی روایت ہے۔حضرت مصلح موعود انتخاب خلافت حضرت عثمان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اس واقعہ کا یوں ذکر فرماتے ہیں کہ : حضرت عمر جب زخمی ہوئے اور آپؐ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں گے۔وہ چھ آدمی یہ تھے۔حضرت عثمان۔حضرت علیؓ حضرت عبد الرحمن بن عوف۔حضرت سعد بن وقاص۔حضرت زبیر اور حضرت طلحہ۔اس کے ساتھ ہی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو بھی آپ نے اس مشورے میں شامل کرنے کے لیے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کے لیے صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن اسوڈ کے سپر د کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازے پر پہرہ دیتے رہیں اور فرمایا کہ جس پر کثرتِ رائے سے اتفاق ہو سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبد اللہ بن عمران میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔اگر اس فیصلے پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف ہوں وہ خلیفہ ہو۔آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا۔کیونکہ طلحہ اس وقت مدینہ میں نہ تھے مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ از: بولے۔جب سب خاموش رہے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔پھر حضرت عثمان نے کہا پھر باقی دونے۔حضرت علی خاموش رہے۔آخر انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف فیصلے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے۔انہوں نے عہد کیا اور سب کام حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سپر د ہو گیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف تین دن مدینے کے گھر گھر گئے اور