اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 29

اصحاب بدر جلد 5 29 20 " حاکم نے روایت کی ہے کہ ثور بن مجزاء نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہ کے پاس سے گزرا۔اس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ میں سے ہو ؟ میں نے کہا کہ حضرت امیر المومنین علی کی جماعت میں سے ہوں تو کہنے لگے اچھا اپنا ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔" چنانچہ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی " اور پھر جان بحق تسلیم کر گئے۔میں نے آکر حضرت علی سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔آپؐ سن کر کہنے لگے۔اللہ اکبر !خدا کے رسول کی بات کیا سچی ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔حضرت عائشہ کے پاس ایک دفعہ واقعہ جمل مذکور ہوا تو کہنے لگیں کیالوگ واقعہ جمل کا ذکر کرتے ہیں؟ کسی ایک نے کہا جی۔اسی کا ذکر ہے۔کہنے لگیں کہ کاش جس طرح اور لوگ اس روز بیٹھے رہے میں بھی بیٹھی رہتی۔اس بات کی تمنا مجھے اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ میں آنحضرت صلی لی کام سے دس بچے جنتی جن میں سے ہر بچہ عبد الرحمن بن حارث بن ہشام جیسا ہو تا۔" پھر اگلی بات جو ہے وہ یہ ہے۔اور طلحہ اور زبیر عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں جن کی بابت آنحضرت صلی الی ہم نے جنت کی بشارت دی ہوئی ہے اور آنحضرت صلی علیہ کم کی بشارت کا سچا ہونا یقینی ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ انہوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کر لی۔"3" یہ حوالہ بھی حضرت مصلح موعود نے دیا۔جنگ جمل دراصل مخالفین اور منافقین کی بھڑ کائی ہوئی آگ سے ہوئی حضرت عثمان کی شہادت، حضرت علی کی بیعت اور جنگ جمل کا تذکرہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ : " قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے دوسروں پر الزام لگاتے تھے۔جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علی نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقعہ مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپؐ " یعنی حضرت علیؓ کے ارد گرد حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے تھے۔اس لیے ان " مخالفین کو منافقین " کو الزام لگانے کا عمدہ موقعہ حاصل تھا۔چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی۔اس نے حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کریں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے طلب کیا۔حضرت طلحہ اور زبیر نے حضرت علی کی بیعت اس شرط پر کر لی تھی کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے۔انہوں نے " یعنی ان دونوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے۔وہ حضرت علی کے نزدیک خلاف مصلحت تھے۔ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے۔پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے کیونکہ اول مقدیم اسلام کی حفاظت ہے۔قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی حرج نہیں۔اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا۔جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علی کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علی کو بالطبع شبہ نہ ہو تا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں۔ا