اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 337

اصحاب بدر جلد 5 337 بن حارث یہ بھی بنو نجار سے تھے جو آنحضرت صلی علم کے دادا عبد المطلب کے ننھیال کا قبیلہ تھا۔رافع بن مالک جو بنو زریق سے تھے۔جو قرآن شریف نازل ہو چکا تھا وہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ ہم نے ان کو عطا فرمایا۔قطبہ بن عامر جو بنی سلمہ سے تھے اور عقبہ بن عامر جو بنی حرام سے تھے اور جابر بن عبد اللہ بن رثاب جو بنی عبید سے تھے۔اس کے بعد یہ لوگ آنحضرت صلی علی یکم سے رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر رکھا ہے اور ہم میں آپس میں بہت نا اتفاقیاں ہیں۔ہم میٹر ب میں جا کر اپنے بھائیوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے۔کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی علیم کے ذریعہ ہم کو پھر جمع کر دے۔پھر ہم ہر طرح آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔کہتے ہیں جی اسلام نے آکر پھوٹ ڈال دی! اسلام کی وجہ سے آپس کی پھوٹ اور فساد جو تھے اس کے ختم ہونے کا اظہار ان لوگوں نے کیا اور پھر یہ ہو بھی گیا اور وہی لوگ جو آپس کے دشمن تھے بھائی بھائی بن گئے۔گزشتہ خطبہ میں بھی ایک میں نے ذکر کیا تھا کہ ان لوگوں کا آپس میں بھائی بھائی ہو نا دشمن کی آنکھوں میں بڑا کھٹکتا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی لیکن پھر آنحضرت صلی اللی کم 802 کے سمجھانے سے اور آپ کی قوت قدسی سے ایک بھائی چارے کی فضا دوبارہ پید اہوئی۔اصحاب رسول صلی ال ایام میں حضرت قطبہ کا شمار ماہر تیر اندازوں میں ہوتا ہے۔آپ غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ شامل ہوئے۔غزوہ اُحد میں آپ جو انمردی سے لڑے۔اس روز آپ کو نو از خم آئے۔فتح مکہ کے موقع پر بنو سلمہ کا جھنڈا آپ ہی کے ہاتھ میں تھا۔جنگ بدر میں بہادری کا ایک انداز غزوہ بدر میں حضرت قطبہ کی ثابت قدمی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے دو صفوں کے درمیان ایک پتھر رکھا اور کہا کہ میں اس وقت تک نہیں بھاگوں گا جب تک یہ پتھر نہ بھاگے یعنی شرط لگادی کہ میری جان جائے تو جائے میدان چھوڑ کر میں نے نہیں بھاگنا۔ان کے بھائی یزید بن عامر تھے جو ستر انصار کے ساتھ عقبہ میں شامل ہوئے تھے۔حضرت یزید بدر اور اُحد میں بھی شریک ہوئے اور ان کی اولا د مدینہ اور بغداد میں بھی تھی۔وفات 803 ابو حاتم سے مروی ہے کہ حضرت قطبہ بن عامر نے حضرت عمر کے دور خلافت میں وفات پائی۔جبکہ ابن حبان کے نزدیک انہوں نے حضرت عثمان کے دور خلافت میں وفات پائی۔804 ایک روایت یہ ہے کہ صفر 19 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیس آدمیوں کے