اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 338
اصحاب بدر جلد 5 338 ہمراہ قبیلہ ختم کی ایک شاخ کی طرف بھیجاجو تبالہ کے نواح میں تھے۔آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک دم سے ان پر حملہ کریں۔یہ اصحاب دس اونٹوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے جنہیں باری باری استعمال کرتے تھے۔انہوں نے ایک آدمی کو پکڑ کر اس سے پوچھ گچھ کی تو وہ ان کے سامنے گونگا بن گیا اور پھر موقع پا کر چیخ چیچ کر اپنے قبیلہ والوں کو متنبہ کرنے لگا۔اس پر انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔پھر حضرت قطبہ اور آپ کے ساتھیوں نے انتظار کیا اور جب وہ لوگ، قبیلہ والے سو گئے تو ان پر بھر پور حملہ کیا۔شدید لڑائی ہوئی۔دونوں فریقوں میں سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔حضرت قطبہ نے کئی لوگوں کو قتل کیا۔پھر ان کے چوپائے، بکریاں اور عور تیں مدینہ لے آئے۔خمس نکالنے کے بعد ہر ایک کے حصہ میں چار چار اونٹ آئے اور تب ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر ہو تا تھا۔805 امام بغوی کہتے ہیں کہ حضرت قطبہ بن عامر سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے۔06 261 حضرت قیس بن ابي صعصعة نام و نسب و کنیت حضرت قیس بن ابی صعصعہ۔یہ انصاری تھے۔حضرت قیس کے والد کا نام عمرو بن زید تھا لیکن وہ اپنی کنیت ابو صعصعہ سے مشہور تھے۔حضرت قیس کی والدہ کا نام بقمیبہ بنت عاصم تھا۔بیعت عقبہ میں شامل اور حضرت قیس ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے تھے اور غزوہ بدر اور احد میں شامل ہونے کا بھی ان کو شرف حاصل ہوا۔07 شاملین بدر کی گنتی جو 313 ہوئی غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوتے ہوئے نبی کریم صلی للی کم نے اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ سے باہر بیوت الشقیا کے پاس قیام کیا اور کم عمر بچے جو آنحضرت صلی للی کم کی ہمر کانی کے شوق میں ساتھ چلے آئے تھے وہاں سے واپس کئے گئے۔پھر حضور صلی نیلم نے صحابہ کو ارشاد فرمایا کہ چاہ سُقیا سے پانی لائیں۔آپ نے اس کا پانی پیا پھر آپ نے سُقیا کے گھروں کے پاس نماز ادا کی۔سقیا سے روانگی کے وقت آنحضور صلی ا یم نے حضرت قیس بن ابی صعصعہ کو مسلمانوں کی گنتی کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر ان کو پانی پر نگران بھی مقرر کیا گیا تھا۔اس کے بعد آنحضرت صلی علیم نے خود بر ابی عنبہ جو مسجد نبوی سے تقریباً ڈھائی کلو میٹر الله سة