اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 217
اصحاب بدر جلد 5 217 کے علاوہ عبد اللہ بن مسعود کا نام بھی شامل ہے۔آنحضرت صلی یی کم فرماتے کہ عبد اللہ بن مسعود کا طریق مضبوطی سے پکڑو۔510 آنحضرت صلی اللہ نام کی ذات سے ایک غیر معمولی عشق الله سة ایک روایت ہے۔آنحضرت صلی علیم کو ایک خاص اعتماد تھا آپ پر اور عبد اللہ بن مسعودؓ کو بھی آنحضرت صلی الم کی ذات سے ایک غیر معمولی عشق تھا۔ان کے بعض واقعات میں نے بیان بھی کئے تھے۔اور بھی واقعات ہیں، بعض دفعہ ملتے جلتے واقعات ہیں لیکن مختلف زاویوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ان کے بارے میں لکھا ہے کہ باطنی لحاظ سے نبی کریم صلی لی امی کی صحبت نے حضرت ابن مسعود یعنی عبد اللہ بن مسعود کو ایک متقی، پرہیز گار اور عبادت گزار انسان بنادیا تھا۔عبادت اور نوافل سے ایسی رغبت تھی کہ فرض نمازوں اور تہجد کے علاوہ چاشت کے وقت کی نماز کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔اسی طرح ہر سوموار اور جمعرات کو نفلی روزہ رکھتے تھے اور پھر بھی یہ احساس غالب رہتا تھا کہ وہ کم روزے رکھتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ تہجد وغیرہ کی ادائیگی کے لئے بدن میں کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔تہجد بھی بڑی لمبی اور غیر معمولی پڑھنے والے تھے اور اگر حقیقت میں حق ادا کرتے ہوئے نوافل اور تہجد ادا کی جائے تو انسان بڑی کمزوری محسوس کرتا ہے۔اس لئے فرماتے تھے کہ نماز کو روزے پر ترجیح دیتے ہوئے نسبتا کم نفلی روزوں کا اہتمام کرتا ہوں۔511 ایک دفعہ رسول کریم صلی علیم نے مختصر خطاب کے بعد حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ اب وہ لوگوں سے وعظ کریں ، یعنی حضرت ابو بکر وعظ کریں۔حضرت ابو بکر نے مختصر وعظ کیا پھر حضرت عمر سے فرمایا۔انہوں نے حضرت ابو بکر سے بھی مختصر وعظ کیا۔پھر کسی اور شخص سے فرمایا تو اس نے لمبی تقریر شروع کر دی۔رسول اللہ صلی علیکم نے اسے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ یا فرمایا خاموش ہو جاؤ۔پھر آنحضرت صلی علیکم نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے تقریر کے لئے فرمایا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اس کے بعد صرف یہ کہا کہ اے لوگو! اللہ ہمارا رب ہے، قرآن ہمارا ر ہنما ہے ، بیت اللہ ہمارا قبلہ ہے اور محمد صلی علیہ کم ہمارے نبی ہیں۔اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں اور مجھے تمہارے لئے وہ پسند ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔نبی کریم صلی الیکم نے اس پر فرمایا کہ ابن مسعود نے درست کہا اور مجھے بھی اپنی امت کے لئے وہ پسند ہے جو ابن مسعود نے پسند کیا۔512 حضرت علی جب کوفہ میں تشریف لے گئے تو آپ کی مجلس میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا کچھ تذکرہ ہوا۔یہ وہاں پہلے رہ چکے تھے۔لوگوں نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے بڑھ کر اعلیٰ اخلاق والا اور نرمی سے تعلیم دینے والا اور بہترین صحبت اور مجلس کرنے والا اور انتہائی خدا ترس اور کوئی نہیں دیکھا۔حضرت علی نے بغرض