اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 218

اصحاب بدر جلد 5 218 آزمائش ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ سچ سچ بتاؤ کہ عبد اللہ بن مسعود کے متعلق یہ گواہی صدق دل سے دیتے ہو۔سب نے کہا ہاں۔اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ اے اللہ ! گواہ رہنا۔اے اللہ ! میں بھی عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں جو ان لوگوں کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بہتر رائے رکھتا ہوں۔513 او پر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اپنے دینی بھائی حضرت زبیر بن العوام کے ساتھ نبی کریم ملی ایم کے قائم فرمودہ مواخات کا حق بھی خوب ادا کیا۔ان پر کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ وصیت فرمائی کہ میرے جملہ مالی امور کی نگرانی اور سپر دداری، یعنی تمام کام جو ہیں ان کو سنبھالنا جو میری جائیداد پیچھے رہ جائے گی، حضرت زبیر بن العوام اور ان کے صاحبزادے عبد اللہ بن زبیر کے ذمہ ہو گی اور خاندانی معاملات میں ان کے فیصلے قطعی اور نافذ العمل ہوں گے۔514 ابو وائل سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے ایک شخص کی تہہ بند ٹخنوں سے نیچے دیکھی تو اسے ٹخنوں سے اوپر کرنے کا کہا۔اس پر اس شخص نے جو ابا آپ سے کہا کہ آپ بھی اپنی تہہ بند شمخنوں سے پر کریں۔آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔میری پنڈلیاں باریک ہیں اور میں دبلا بھی ہوں۔حضرت عمرؓ کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس شخص کو حضرت ابن مسعود سے اس طرح مخاطب ہونے اور جواب دینے کے سبب سزا بھی دی۔515 یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شخص میں تکبر ہو اور اس زمانے میں تکبر کی وجہ ہے کپڑے لمبے رکھنے کا رواج تھا تو اس پر انہوں نے اس کو سمجھایا ہو اور اس نے بغیر دیکھے کہ یہ کتنے عاجز شخص ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کتنا عمل کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کس قدر خشیت ہے آگے سے یہ جواب دیا اور حضرت عمر کو جب پتہ لگا تو آپ نے اس کی سرزنش کی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اطاعت رسول کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ حدیثوں میں ایک واقعہ آتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اُن میں کس قدر فرمانبرداری کی روح پائی جاتی تھی۔بظاہر وہ ایک ایسی بات ہے جسے سن کر کوئی انسان کہہ سکتا ہے یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ( حضرت خلیفہ ثانی کہتے ہیں ) کہ ان کی ترقی کار از اسی میں مضمر تھا کہ وہ رسول کریم صلی علیم کی زبان سے جب کوئی حکم سنتے تو اسی وقت اس پر عمل کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اس کو بیان کر رہے ہیں کہ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ایک دفعہ رسول کریم ملی یی کم کی مجلس کی طرف آرہے تھے تو آپ ابھی گلی میں ہی تھے کہ آپ کے کانوں میں رسول کریم صلی علیم کی یہ آواز آئی کہ بیٹھ جاؤ۔معلوم ہوتا ہے کہ ہجوم زیادہ ہو گا اور کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہوں گے تو رسول کریم صلی اللہ ہم نے انہیں فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ جو ابھی مجلس میں نہیں پہنچے تھے اور گلی میں انہوں نے رسول کریم صلی یم کی یہ آواز سنی تو وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے جیسے بچے چلتے ہیں گھسٹ گھسٹ کر مسجد میں پہنچے۔کسی شخص نے جو اس