اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 216

اصحاب بدر جلد 5 216 عرصہ بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔505 لیکن وفات سے قبل حضرت عثمان کو جب ان کی بیماری کا علم ہوا تو آپ کو کوفہ سے مدینہ بلوالیا۔کوفہ کے لوگوں نے آپ کو کوفہ ہی میں رکنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے۔شاید بیماری نہ تھی لیکن ویسے ہی حضرت عثمان نے ان کو بلا لیا تھا۔بہر حال وہ تو صحت کی حالت میں لگ رہا تھا کہ جب اس شخص نے خواب سنائی۔اس کے بعد پھر یہ واقعہ ہوا کہ حضرت عثمان نے ان کو کوفہ سے بلوالیا باوجود اس کے کہ کوفہ کے لوگ یہی چاہتے تھے کہ آپ وہیں رکے رہیں اور یہ کہا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن آپ نے فرمایا کہ خلیفہ وقت کا حکم اور ان کی اطاعت میرے لئے ضروری ہے۔پھر آپ نے یہ بھی کہا کہ عنقریب کچھ فتنے ہوں گے اور میں نہیں چاہتا کہ فتنوں کا شروع کرنے والا میں ہوں۔یہ کہہ کر خلیفہ وقت کے پاس چلے آئے۔آپ کی وفات 32 ہجری میں مدینہ میں ہوئی۔حضرت عثمان نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر 60 سال سے کچھ زیادہ تھی۔506 507 ایک اور روایت کے مطابق وفات کے وقت آپ کی عمر 70 برس سے کچھ زائد تھی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کی وفات پر حضرت ابو موسیٰ نے حضرت ابو مسعود سے کہا کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اپنے بعد ایسی خوبیوں والا اور کوئی شخص پیچھے چھوڑا ہے؟ حضرت ابو مسعود کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی لیے کم کے ہاں جب ہمیں جانے کی اجازت نہ ہوتی اس وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود کو داخل ہونے کی اجازت ملتی تھی۔اور جب ہم آپ کی مجلس سے غائب ہوتے اس وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود خدمت کی توفیق پاتے اور آپ کی صحبتوں سے فیضیاب ہوتے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی اور شخص ان کی خوبیوں والا ہو۔508 حضرت عبد اللہ بن مسعود سنت نبوی پر خوب کار بند تھے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول کریم صلی علیم کے دو صحابہ میں سے ایک صحابی روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتا ہے یعنی غروب آفتاب کے ساتھ ہی افطار کرتے ہیں اور نماز بھی غروب آفتاب کے فوراً بعد جلدی ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے صحابی یہ دونوں کام نسبتا دیر سے کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے پوچھا کہ جلدی کون کرتا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ عبد اللہ بن مسعود ایسا کرتے ہیں تو حضرت عائشہ نے اس پر فرمایا کہ نبی کریم صلی علیم کا بھی یہی دستور تھا جو عبد اللہ بن مسعود کرتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ وسلم کا بھی یہی عمل تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارے میں بزرگ صحابہ کہا کرتے تھے کہ عبد اللہ بن مسعود اللہ تعالیٰ سے قرب اور تعلق میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے اور نبی کریم صلی علیہ ہم اپنے جن صحابہ کے نمونے کو مشعل راہ بنانے کے لئے بطور خاص ہدایت فرماتے تھے ان میں حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ 509