اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 204
204 اصحاب بدر جلد 5 میں شہید ہو گئے اور وہ قرض اور اولاد چھوڑ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں اس چیز کی خوشخبری نہ دوں جس سے اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ؟ میں نے عرض کی جی یارسول اللہ صلی علیکم۔آپ نے فرمایا اللہ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے، جس سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کیا لیکن اللہ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور پھر ان سے آمنے سامنے ہو کر کلام کیا اور فرمایا اے میرے بندے ! مجھ سے مانگ کہ میں تجھے دوں۔انہوں نے عرض کی کہ اے میرے رب ! مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ایک روایت میں ہے کہ اس موقعے پر حضرت عبد اللہ نے عرض کی کہ اے میرے رب ! میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا۔میری تمنا ہے کہ تو مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج تاکہ میں تیرے نبی صلی للہ کرم کے ساتھ ہو کر تیری راہ میں لڑوں اور تیری راہ میں دوبارہ مارا جاؤں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ جو ایک بار مر جائیں وہ دنیا میں دوبارہ نہیں لوٹائے جائیں گے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اللہ سے عرض کی کہ اے میرے رب ! میرے پیچھے رہنے والوں تک یہ بات پہنچا دے۔اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءِ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران : 170) یعنی جو اللہ کی راہ میں مارے گئے تم انہیں ہر گز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں۔انہیں ان کے رب کے ہاں رزق 467 عطا کیا جارہا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ کے ضمن میں پہلے بھی یہ آیت میں بیان کر چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے مکالمہ والے واقعے کی تفصیل حضرت خلیفۃ المسیح الرائع نے اپنی ایک تقریر میں جو خلافت سے پہلے تھی اس طرح بیان کی ہے کہ ” اس واقعہ میں طرح طرح کا حسن کوٹ کوٹ کر بھر اہو اہے اور جس کروٹ سے اسے دیکھیں یہ ایک نئی رعنائی دکھاتا ہے۔منجملہ اور امور کے اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مسلسل آنحضور کا رابطہ اپنے رب سے قائم تھا۔بندوں پر بھی نظر شفقت فرمارہے تھے اور رب سے بھی دل ملا ر کھا تھا۔ایک پہلو اپنے صحابہ پر جھکا ہوا تھا تو دوسرا پہلو رفیق اعلیٰ سے پیہم وابستہ اور پیوستہ تھا۔وہ وجو د جو امن کی حالت میں ثم دنا فتدلی (انجم: 1) کے افق اعلیٰ پر فائز رہا، جنگ کی حالت میں بھی ایک لمحہ اس سے الگ نہ ہوا۔ایک نگاہ میدان حرب کی نگران تھی تو دوسری جمالِ یار کے نظارے میں مصروف تھی۔ایک کان رحمت سے صحابہ کی طرف جھکا ہوا تھا تو دوسر املاء اعلیٰ سے اپنے رب کا شیریں کلام سننے میں مصروف۔دست با کار تھا تو دل بایار۔آپ صحابہ کی دلداری فرماتے تھے تو خدا آپ کی دلداری فرمارہا تھا۔عبد اللہ بن عمرو کی قلبی کیفیت کی خبر دے کر دراصل اللہ تعالیٰ آپ کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ اے سب سے بڑھ کر مجھ سے محبت کرنے والے ! دیکھ ! تیرا ابھی کیسا عشق ہم نے اپنے عارف بندوں کے دل میں بھر دیا ہے کہ عالم گزراں سے گزر جانے کے بعد بھی تیر اخیال انہیں ستاتا ہے اور تجھے میدان جنگ میں تنہا چھوڑ