اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 203

اصحاب بدر جلد 5 203 سے استنباط کیا ہے۔یا نماز پڑھی گئی یا دعا کی گئی بھی ہو سکتا ہے لیکن بہر حال بڑے درد سے ان کے لیے نماز جنازہ ادا کی ” اور بڑے دردِ دل سے ان کے لیے دعا فرمائی۔46366 وسکتا ہے کہ دعا کی ہو۔جس طرح پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ہر ایک کی قبر پہ جاکے دعا کی ہو اور بڑے درد سے ان کے لیے دعا فرمائی۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے لیے غزوۂ احد کے چھ ماہ بعد قبر بنائی اور انہیں اس میں دفن کیا تو میں نے ان کے جسم میں کوئی تغیر نہیں دیکھا سوائے ان کی داڑھی کے چند بالوں کے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔464 ایک دوسری جگہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے موقعے پر ایک قبر میں دولوگوں کو دفن کیا گیا اور میرے والد کے ساتھ بھی ایک صحابی کو دفن کیا گیا۔چھ ماہ گزر گئے پھر میرے دل نے چاہا کہ میں انہیں الگ قبر میں اکیلا دفن کروں۔چنانچہ میں نے انہیں قبر سے نکالا تو میں نے دیکھا کہ زمین نے ان کے جسم میں کچھ بھی تغیر نہیں کیا تھا سوائے ان کے کان کے گوشت میں سے تھوڑا سا۔465 غزوہ احد کے چھیالیس سال بعد حضرت امیر معاویہ نے اپنے دور حکومت میں نہر جاری کی جس کا پانی غزوۂ احد کے شہداء کی قبروں میں داخل ہو گیا۔حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت عمرو بن جموح کی قبر میں بھی پانی داخل ہو گیا۔جب ان کی قبر کھودی گئی تو ان پر دو چادریں پڑی ہوئی تھیں اور یہ روایت بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ان کے چہرے پر زخم تھا اور ان کا ہاتھ ان کے زخم پر تھا اور پھر آگے جو روایت ہے وہ بہر حال محل نظر ہے۔بیان تو میں کر رہا ہوں لیکن ضروری نہیں ہے کہ اس پر تسلی بھی ہو۔یہ کیونکہ بعض تاریخی کتابوں میں لکھا ہے اور پڑھنے والے بعض پڑھتے بھی ہیں اس لیے یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ مبالغہ بھی کیا گیا ہو۔بہر حال وہ کہتے ہیں زخم سے جب ہاتھ ہٹایا گیا تو زخم سے خون جاری ہو گیا ( جو ناممکن ہے)۔ان کا ہاتھ واپس زخم پر رکھ دیا گیا تو پھر خون رک گیا۔اس قسم کی روایتیں بھی بعض بیچ میں آجاتی ہیں جو محل نظر ہوتی ہیں۔جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قبر میں اپنے والد کو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا گویا وہ سورہے ہیں۔466 حالانکہ چھ مہینے کے بعد جب انہوں نے نکالا تھا اس وقت بھی وہ کہتے ہیں گوشت پر کچھ اثر تھا تو چھیالیس سال بعد تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نہ اثر ہوا ہو اور ہڈیاں نہ رہ گئی ہوں اور یہ قانون قدرت ہے۔اس طرح نہیں ہو سکتا کہ جسم میں کوئی تغیر نہیں تھا۔اللہ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور پھر ان سے آمنے سامنے ہو کر کلام کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی علیم ملے تو آپ نے فرمایا اے جابر ! کیا بات ہے میں تمہیں غمگین دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی علیکم میرے والد غزوۂ احد