اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 205
اصحاب بدر جلد 5 205 کے چلے جانے پر کس درجہ کبیدہ خاطر ہیں۔تیرے مقابل پر انہیں جنت کی بھی حرص نہیں رہی۔ان کی جنت تو بس یہی ہے کہ تیز تلواروں سے بار بار کاٹے جائیں مگر تیرے ساتھ رہیں، پھر تیرے ساتھ رہیں، پھر تیرے ساتھ رہیں۔468 آنحضرت صلی اللہ وسلم کی برکت سے کھجوروں میں برکت حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر و جب فوت ہوئے تو ان پر قرض تھا۔میں نے نبی صلی اللہ کم سے مدد طلب کی۔آپ ان کے قرض خواہوں کو سمجھائیں کہ وہ ان کے قرض میں سے کچھ کمی کر دیں تو نبی صلی اللہ ہم نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا مگر انہوں نے کمی نہ کی۔تب نبی صلی علیم نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ہر ایک قسم کو الگ الگ کرو۔عجوہ کھجور کی کو علیحدہ رکھنا اور عذق بن زید کھجور کی قسم کو علیحدہ۔پھر مجھے پیغام بھیجنا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور رسول الله عالم کو کہلا بھیجا۔آپ تشریف لائے تو آپ کھجوروں کے ڈھیر پر یا ان کے درمیان بیٹھ گئے۔پھر آپ نے فرمایا ان لوگوں کو ماپ کر دو۔چنانچہ میں نے ان کو ماپ کر دیا یہاں تک کہ جو اُن کا حق تھا میں نے ان کو پور دے دیا۔پھر بھی میری کھجوریں بچ گئیں۔ایسا معلوم ہو تا تھا کہ ان میں کچھ کمی نہیں ہوئی۔469 حضرت عبد اللہ بن عمرو اپنے پسماندگان میں اپنے بیٹے حضرت جابر بن عبد اللہ کے علاوہ چھ بیٹیاں چھوڑ کے گئے۔صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہو نے پسماندگان میں سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں۔470 220 نام و نسب و کنیت حضرت عبد اللہ بن مسعود رسول اللہ صلی الم کے رازدار حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ان کی کنیت ابو عبد الرحمن ہے۔ان کا تعلق بنو ھذیل قبیلہ سے تھا اور ان کی والدہ کا نام ای عبد ہے۔ان کی وفات 32 ہجری میں ہوئی۔ان کے والد کا نام مسعود بن غافل تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کا شمار ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے ہوتا ہے۔حضرت عمر کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت خطاب اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید نے جب اسلام قبول کیا تو آپ بھی