اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 139

اصحاب بدر جلد 5 ابتدائی اسلام قبول کرنے والے 139 حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد اسلام میں سبقت کرنے والے لوگوں میں سے ہیں۔ابن اسحاق کے مطابق دس آدمیوں کے بعد آپ اسلام لائے۔یعنی ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔308 ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن حارث، حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد ، حضرت ار قم بن ابو ار تم اور حضرت عثمان بن مظعون حضور اکرم صلی یک کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی علیکم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا جس پر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور یہ شہادت دی کہ آپ صلی یہ کم ہدایت اور راستی پر ہیں۔ہجرت حبشہ و مدینہ الرس حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد اپنی بیوی حضرت ام سلمہ کے ہمراہ پہلی ہجرت حبشہ میں شامل ہوئے۔حبشہ سے واپس مکہ آنے کے بعد مدینہ ہجرت کی۔309 ایتھوپیا کی سعادت و خوش بختی سیرت خاتم النبیین میں ان کی ہجرت حبشہ کا ذکر ملتا ہے کہ "جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایذارسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی اللہ کریم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہو تا۔حبشہ کا ملک جسے انگریزی میں ایتھو پیایا ابے سینیا کہتے ہیں براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقعہ ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل مقابل پر ہے اور درمیان میں بحر احمر کے سوا کوئی اور ملک حائل نہیں۔اس زمانے میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا بلکہ اب تک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔" حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " ان ایام میں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں حبشہ کا دار السلطنت اکسوم (AXSUN) تھا جو موجودہ شہر عدوا (ADOWA) کے قریب واقع ہے اور اب تک ایک مقدس شہر کی صورت میں آباد چلا آتا ہے۔اکسوم ان دنوں میں ایک بڑی طاقتور حکومت کا مرکز تھا اور اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اصحمہ تھا جو ایک عادل اور بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی ییم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی علیہلم کے فرمانے پر ماہ رجب 5 نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عبد الرحمن بن عوف، زبیر بن العوام، ابو حذیفہ بن عتبہ ، عثمان بن مظعون، مصعب بن عمیر ، ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ان کی زوجہ حضرت ام سلمہ۔یہ