اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 138

اصحاب بدر جلد 5 138 تھوڑی دیر تک تو عبد اللہ کو گھسیٹتے ہوئے اور زدو کوب کرتے ہوئے لے گئے اور پھر انہیں قتل کر کے وہیں پھینک دیا۔(عبد اللہ سے مراد عبد اللہ بن طارق ہیں) اس روایت میں یہ درج ہے کہ اس طرح ان کو لے گئے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ چھڑا لیے اور لڑائی کے لیے تیار ہو گئے۔اس پر انہوں نے پتھر مار کے شہید کر دیا۔لیکن جو بھی تھا ان کو بہر حال یہاں شہید کر دیا گیا اور وہیں پھینک دیا۔اب چونکہ ان کا انتقام پورا ہو چکا تھا، قریش کو خوش کرنے کے لیے اور روپے کے لالچ سے خبیب اور زید کو ساتھ لے کر یہ لوگ مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔وہاں پہنچ کر انہیں قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا۔چنانچہ حبیب کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے لڑکوں نے خرید لیا کیونکہ حبیب نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا اور زید کو صفوان بن امیہ نے خرید لیا۔یہ حضرت خبیب ہی ہیں جن کے بارے میں یہ بھی روایت ہے کہ جب یہ قید میں تھے تو جس گھر میں یہ تھے ان کافروں کا ایک بچہ کھیلتا ہوا ان کے پاس آگیا اور خبیب نے اس کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔اس پر اس کی ماں بڑی پریشان تھی تو حضرت خبیب نے اسے کہا کہ پریشان نہ ہو۔اس کو میں کچھ نہیں کہوں گا حالانکہ اس وقت ان کے ہاتھ میں اُستر ا تھا۔اس استرے کی وجہ سے وہ ڈر گئی تھی وہاں۔تو بہر حال یہ حضرت عبد اللہ بن طارق رجیع کے واقعہ میں اس طرح شہید ہوئے تھے کہ انہوں نے کافروں کے ساتھ آگے جانے سے انکار کر دیا تھا اور وہیں لڑے۔305 204 نام و نسب و کنیت 306 حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد آنحضرت صلى ال عالم کے پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد۔ان کا نام عبد اللہ تھا اور کنیت ابو سلمہ۔آپ کی والدہ بڑہ بنت عبد المطلب تھیں اور آپ نبی کریم صلی علیم کے پھوپھی زاد بھائی اور نبی صلی میں کم اور حضرت حمزہ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔انہوں نے ابو لہب کی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا تھا۔حضرت ام المومنین ام سلمہ پہلے آپ کے نکاح میں تھیں۔اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ " ابو سلمہ بن عبد الاسد تھے جو آنحضرت صلی علی ایم کے رضاعی بھائی تھے اور بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی وفات پر ان کی بیوہ اتم سلمہ کے ساتھ آنحضرت صلی ا یلم کی شادی ہوئی۔"307