اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 140

اصحاب بدر جلد 5 140 ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے۔الله اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہ تھے۔دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام وغیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتے تھے۔جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شعیبہ پہنچے جو اس زمانے میں عرب کا ایک بندرگاہ تھا تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ سب امن سے اس میں سوار ہو گئے اور جہاز روانہ ہو گیا۔قریش مکہ کو ان کی ہجرت کا علم ہوا تو سخت برہم ہوئے کہ یہ شکار مفت میں ہاتھ سے نکل گیا۔( ان کا پیچھا کر رہے تھے کہ جانے نہیں دینا لیکن وہ چلے گئے) چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کا پیچھا کیا مگر جب ان کے آدمی ساحل پر پہنچے تو جہاز روانہ ہو چکا تھا اس لئے خائب و خاسر واپس لوٹے۔حبشہ میں پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکار املا۔310 ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو سلمہ نے (حبشہ سے واپس آنے کے بعد ) حضرت ابوطالب سے پناہ طلب کی تو بنو مخزوم میں سے چند اشخاص ابو طالب کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ تم نے اپنے بھتیجے محمدعلی ایم کو تو اپنی پناہ میں رکھا ہی ہوا ہے مگر ہمارے بھائی ابو سلمہ کو تم نے کیوں پناہ دی ہے ؟ ابو طالب نے کہا اس نے مجھ سے پناہ طلب کی اور وہ میر ابھانجا بھی ہے اور اگر اپنے بھتیجے کو پناہ نہ دیتا تو بھانجے کو بھی پناہ نہ دیتا۔ابولہب نے بنو مخزوم کے لوگوں سے کہا کہ تم ہمیشہ ہمارے بزرگ ابو طالب کو آکر ستاتے ہو اور طرح طرح کی باتیں کرتے ہو بخدایا تو تم اس سے باز آ جاؤ ورنہ ہم ہر ایک کام میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے یہانتک کہ وہ اپنے ارادے کی تعمیل کر لے۔اس پر ان لوگوں نے ( ابو لہب کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا کہ اے ابو عتبہ جس چیز کو تو نا پسند کرتا ہے ہم بھی اس سے پیچھے ہٹتے ہیں۔ابولہب کیونکہ آنحضرت صلی علی ظلم کے خلاف بنو مخزوم کا دوست تھا اور مدد گار بھی تھا اس لئے وہ لوگ اس بات سے باز آگئے کہ ان کو ابوسلمہ کے بارے میں کچھ زور دیں یا زیادتی کریں۔ابو طالب کو ابو لہب سے موافقت کی بات سن کر جب انہوں نے موافقت کی بات سنی کہ وہ میرے موافق بات کر رہا ہے اور دوسرے قبیلہ کو روک دیا ہے) امید بندھی کہ یہ بھی ہماری امداد پر آمادہ ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے چند اشعار کہے جن میں ابو لہب کی تعریف کی اور رسول اللہ صلی الی یوم کی امداد پر اسے ترغیب دلائی۔311 شوہر کی جدائی میں ایک سال گزارنے کے بعد چھوٹے بچے کے ساتھ تنہا ہجرت کے لئے سفر لیکن بہر حال اس کا اثر کوئی نہیں ہوا اور مخالفت میں بڑھتا چلا گیا۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اُتم المومنین حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ جب میرے خاوند حضرت ابو سلمہ نے مدینہ جانے کا قصد کیا تو اپنے اونٹ کو تیار کیا اور مجھے اور بیٹے سلمہ کو جو میری گود میں تھا اس پر سوار کر وایا اور پھر چل پڑے۔