اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 137
اصحاب بدر جلد 5 137 ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عَضَل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں۔اور ہمارے ساتھ آپ چند آدمی روانہ کریں جو ہمیں اسلام کے بارے میں بتائیں اور اسلام کی تعلیم دیں تاکہ ہم مسلمان ہوں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے ان کی یہ خواہش معلوم کر کے وہی خبر رساں پارٹی جو مکہ کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کی گئی تھی وہ وہاں کی بجائے ان کے ساتھ روانہ کر دی۔لیکن جیسا کہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنو لحیان کے بھڑکانے پر مدینہ آئے تھے ، ان کے کہنے پر مدینہ آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانے سے کچھ مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جائے اور بنو لختیان نے اس خدمت کے معاوضے میں عَضَل اور قارہ کے لوگوں کے لیے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کیے تھے۔جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عُسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں۔تم بدلہ لینے کے لیے آجاؤ۔جس پر قبیلہ بنو یخیان کے دو سو نوجوان، جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے ، مسلمانوں کے تعاقب میں نکلے۔یعنی ان کے بلانے پے وہاں آگئے اور مقام رجیع میں ان کا آمنے سامنے مقابلہ ہو گیا۔دس مسلمان آدمی تھے بعض روایات میں سات ہے تو یہ لوگ پوری طرح ہتھیاروں سے لیس لوگوں کا، دو سو سپاہیوں کا، دو سو کفار کا، مقابلہ کیا کر سکتے تھے ؟ لیکن مسلمان ! اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان مسلمانوں میں ایمانی جوش تھا اور ہتھیار ڈالنا تو ان کی سرشت میں نہیں تھا۔انہوں نے فوری طور پر، یہ حکمت عملی اختیار کی کہ ایک قریبی ٹیلے پر چڑھ گئے تا کہ مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔کفار نے ، جن کے نزدیک دھوکا دینا کوئی ایسی معیوب بات نہیں تھی، ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ ہم تم سے بڑا پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔عاصم نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے یہ جو عہد و پیمان ہیں ان پے کوئی اعتبار نہیں ہے۔ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے اور پھر حضرت عاصم نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا کہ اے خدا ! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے۔اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔بہر حال عاصم اور اس کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا اور بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔جب سات صحابہ مارے گئے اور صرف خُبيب بن عدی اور زید بن دثنہ اور عبد اللہ بن طارق باقی رہ گئے تو کفار نے ، جن کی اصل خواہش یہ تھی کہ ان لوگوں کو زندہ پکڑ لیں ، پھر آواز دی کہ بھی نیچے اتر آؤ اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دیں گے۔اس دفعہ ان لوگوں نے ان کے وعدے پے یقین کر لیا اور ان کے اس جال میں آکے نیچے اتر آئے مگر نیچے اترتے ہی کفار نے انہیں اپنی تیر کمانوں کی تندیوں سے باندھ دیا۔اس پر حبیب اور زید اور عبد اللہ بن طارق، سے صبر نہ پر ہو سکا۔انہوں نے پکار کے کہا یہ تمہاری بد عہدی ہے اور اب دوبارہ تم نے ہمارے ساتھ کی ہے اور آگے چل کے نامعلوم کیا کرو گے ، ہمیں نہیں پتا۔عبد اللہ نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا جس پر کفار