اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 136
اصحاب بدر جلد 5 136 جب یہ لوگ مقام رجیع تک پہنچے ، جو حجاز میں ایک چشمہ ہے ، جو قبیلہ ھذیل کی ملکیت تھا تو اس پر قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے سرکشی اختیار کرتے ہوئے ان صحابہ کا محاصرہ کیا اور بغاوت کرتے ہوئے ان سے قتال کیا، جنگ کی۔ان میں سے سات صحابہ کے نام یہ ہیں: حضرت عاصم بن ثابت، حضرت مرثد بن أبُو مَرد، حضرت حبیب بن عَدِى " حضرت خالد بن بگیر ، حضرت زید بن دينه ، حضرت عبد اللہ بن طارق اور حضرت مُعیب بن عبید۔ان میں حضرت مرند، حضرت خالد اور حضرت عاصم اور حضرت مُعب عُبيد " تو وہیں شہید ہو گئے تھے۔حضرت حبیب اور حضرت عبد اللہ بن طارق اور حضرت زید نے ہتھیار ڈال دیے تو کافروں نے انہیں قید کر لیا اور ان کو مکہ کی طرف لے کر چلنے لگے۔جب وہ مقام ظهران ( ظہران مکہ سے پانچ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے ، وہاں پہنچے تو حضرت عبد اللہ بن طارق نے رسی سے اپنا ہاتھ چھڑالیا اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے لی۔یہ کیفیت دیکھ کر مشرکین ان سے پیچھے ہٹ گئے اور آپ کو پتھروں سے مارنا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔اور آپ کی قبر ظهران میں ہے۔واقعہ کر جیع ہجرت کے بعد 36 ویں مہینے میں، جو صفر کا مہینہ ہے اس میں ہوا۔302 حضرت حسان اپنے اشعار میں ان اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ : وَابْنُ اللَّيْنَةِ وَابْنُ طَارِقٍ مِنْهُمْ وَافَاهُ ثَمَّ حِمَامُهُ الْمَكْتُوبُ پھر یہ جو نظم ہے اس کا پہلا شعر ہے: صَلَّى الْإِلهُ عَلَى الَّذِينَ تَتَابَعُوا يَوْمَ الرَّجِيْعِ فَأُكْرِمُوْا وَأَثِيْبُوا پہلے شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت ابن دینہ اور حضرت ابن طارق ان میں سے تھے وہیں موت ان سے جاملی جہاں وہ ان کے لیے مقدر تھی۔اور پھر جو پہلا شعر ان کی نظم کا تھا اس میں وہ کہتے ہیں کہ خدائے معبود نے ان پر رحمت نازل کی جو غزوہ کر جمیع کے دن پے در پے شہید ہوئے۔پس انہیں اعزاز بخشا گیا اور انہیں ثواب دیا گیا۔واقعہ کر جمیع کا مختصر بیان 303 واقعہ کر جمیع کے بارے میں کچھ صحابہ کے واقعات میں پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں۔204 کچھ تو یہاں بھی یہ بیان ہو گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو تفصیل لکھی ہے اس کا مزید خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ آنحضرت صلی للی کم کو چاروں طرف سے کفار کے حملوں کی، ان کے منصوبوں کی بڑی خوفناک خبریں آرہی تھیں اور جنگ احد کی وجہ سے کفار جو تھے وہ بڑے دلیر بھی ہو رہے تھے ، شوخ بھی ہو رہے تھے اور ان کی طرف سے خطرہ بہت زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔اس بات پر آنحضرت علی سلیم نے چار ہجری میں صفر کا جو اسلامی مہینہ ہے اس میں اپنے دس صحابیوں کی پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت ہو امیر مقرر فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جاکر قریش کے حالات دریافت کریں، دیکھیں کہ ان کے کیا ارادے ہیں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے پھر آپ کو اطلاع دیں۔لیکن