اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 135

اصحاب بدر جلد 5 135 سُھیل کے والد حضرت سهيل بن عمر و مکہ میں حضرت ابو بکر سے ملنے آئے تب حضرت ابو بکر نے ان سے ان کے بیٹے عبد اللہ کی تعزیت کی۔اس پر حضرت سھیل نے کہا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللی کم نے فرمایا کہ شہید اپنے اہل میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا تو میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میرا بیٹا مجھ سے قبل کسی اور سے آغاز نہ کرے گا یعنی میں جب مروں تو وہ میری بخشش کی سفارش کرے۔اسی طرح دوسری رائے کے مطابق حضرت عبد اللہ بحرین کے علاقہ جواناء میں 88 سال کی عمر میں شہید ہوئے تھے۔جواناء بحرین میں عبد القیس کا قلعہ ہے جس کو علاء بن حضرمی نے حضرت ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں 12 ہجری میں فتح کیا تھا۔300 بہر حال یہ دور وایتیں ہیں۔301 203 نام و نسب حضرت عبد اللہ بن طارق جنگ بدر میں شامل ہونے والے دو بھائی حضرت عبد اللہ بن طارق۔علامہ زہری کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن طارق ظفری غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔عروہ نے ان کا نام عبد اللہ بن طارق بدوی لکھا ہے جو انصار کے حلیف تھے۔بعض نے کہا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن طارق بلوی انصار کے قبیلہ بنو ظفر کے حلیف تھے۔ابن ہشام کے مطابق آپ قبیلہ بلی میں سے تھے اور قبیلہ بنو عبد بن رزاخ کے حلیف تھے۔حضرت معیب بن عبید حضرت عبداللہ بن طارق کے اخیافی بھائی تھے یعنی والدہ کی طرف سے حقیقی بھائی تھے۔حضرت عبد اللہ بن طارق کی والدہ بنو عُذرہ کی شاخ بنو گاھل سے تھیں۔واقعہ کر جمیع اور ان کی شہادت حضرت عبد اللہ بن طارق اور حضرت معیب بن عبید غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شامل ہوئے اور واقعہ رجیع کے دن دونوں بھائیوں کو شہادت نصیب ہوئی۔حضرت عبد اللہ بن طارق ان چھ صحابہ ، یا بعض روایات کے مطابق جس میں بخاری کی روایت بھی شامل ہے ان کی تعداد دس بتائی جاتی ہے، ان میں شامل تھے جنہیں رسول اللہ صلی ا ہم نے 3 ہجری کے آخر میں قبیلہ عَضَل اور قارہ کے چند آدمیوں کے پاس بھیجا تھا تا کہ وہ انہیں دین کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ دیں اور انہیں قرآن کریم اور اسلامی شریعت کی تعلیم دیں۔