اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 134

اصحاب بدر جلد 5 134 ہجرت حبشہ اور۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ کی جو کتاب ہے اس میں ابن اسحاق نے مہاجرین حبشہ ثانیہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔جب حضرت عبد اللہ بن سہیل حبشہ سے لوٹے تو ان کے والد نے انہیں پکڑ کر ان کے دین سے ہٹا دیا یعنی زبر دستی کی ان پہ۔حضرت عبد اللہ بن سُھیل نے رجوع کا اظہار کیا اور آپ مشرکین کے ہمراہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بدر کی طرف روانہ ہوئے یعنی انہوں نے باپ کو کہا کہ ٹھیک ہے میں اس دین سے واپس آتا ہوں، اسلام سے توبہ کرتاہوں۔کہہ تو یہ دیا لیکن دل میں تسلی نہیں تھی۔بہر حال مشرکین کے ساتھ بدر کی جنگ کے لیے آگئے۔حضرت عبد اللہ اپنے والد سہیل بن عمرو کے ساتھ ان کے نفقہ اور انہی کی سواری میں سوار تھے۔ان کے والد کو کسی قسم کا شک نہ تھا کہ اس نے اپنے دین کی طرف رجوع کر لیا ہے یعنی اسلام چھوڑ کے واپس آگیا ہے۔جب بدر کے مقام پر مسلمان اور مشرکین مقابلہ کے لیے آمنے سامنے ہوئے اور دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو حضرت عبد اللہ بن سهیل مسلمانوں کی طرف پلٹ آئے اور لڑائی سے پہلے رسول اللہ صلی علیہ علم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔یوں آپ بحالت اسلام غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔حضرت عبد اللہ کے ایسا کرنے کی وجہ سے ان کے والد سہیل بن عمرو کو شدید غصہ آیا۔حضرت عبد الله بن سهيل بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ہمراہ شریک ہوئے۔فتح مکہ کے روز ان کے والد کو معافی اور امان دیا جانا حضرت عبد اللہ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی علیہ کم سے اپنے والد کے واسطے امان لی یعنی کہ ان کو معاف کر دیں۔پناہ میں لے لیں۔انہوں نے رسول اللہ صلی ال کم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ میرے والد کو امان دیں گے۔آپ نے جواب دیا کہ وہ اللہ کی امان کی وجہ سے امن میں ہے۔ٹھیک ہے اسے چاہیے کہ وہ باہر آ جائے۔پھر رسول اللہ صلی یکی نے اپنے ارد ہیم گرد احباب سے فرمایا جو شخص سھیل بن عمرو کو دیکھے تو اسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھے۔میری زندگی کی قسم ہے کہ یقیناسُهَيْل عقل مند اور شریف آدمی ہے اور سُہیل جیسا شخص اسلام سے ناواقف نہیں ا رہ سکتا۔حضرت عبد اللہ بن سُھیل اٹھ کر اپنے والد کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ صلی ال کم کی گفتگو سے آگاہ کیا۔سُھیل نے کہا کہ اللہ کی قسم ! وہ بڑھاپے اور بچپن میں نیکو کار تھے۔یوں حضرت عبد اللہ کے والد سھیل نے اس موقعے پر اسلام قبول کر لیا۔حضرت سهیل امان والے واقعہ کے بعد کہتے تھے کہ اللہ نے اسلام میں میرے بیٹے کے لیے بہت زیادہ بھلائی رکھ دی ہے۔حضرت عبد اللہ جنگ یمامہ میں بھی شریک ہوئے تھے اور اسی جنگ میں بارہ ہجری میں دورِ خلافت حضرت ابو بکر صدیق میں شہید ہوئے۔اس وقت ان کی عمر 38 سال تھی۔حضرت ابو بکر صدیق جب اپنے دور خلافت میں حج کے لیے مکہ تشریف لائے تو حضرت عبد اللہ بن