اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 78
اصحاب بدر جلد 5 78 کے گھڑ سوار ہیں جو خندق کا چکر لگا رہے ہیں۔انہیں کون دیکھے گا ؟ پھر آپ نے آواز دی۔اے عباد بن بشر ! حضرت عباد نے عرض کی میں حاضر ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ہوں۔ہم آپ کے خیمے کے ارد گرد ہیں۔آپ نے فرمایا اپنے ساتھیوں کے ساتھ جاؤ اور خندق کا چکر لگاؤ۔یہ ان مشرکین کے گھر سواروں میں سے کچھ گھڑ سوار ہیں جو تم پر چکر لگا رہے ہیں اور وہ خواہش رکھتے ہیں کہ تمہاری غفلت میں اچانک تم پر حملہ کر دیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! ہم سے ان کے شر کو دور کر دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما اور ان کو مغلوب کر دے۔تیرے علاوہ کوئی انہیں مغلوب نہیں کر سکتا۔پھر حضرت عباد بن بشر اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلے اور دیکھا کہ ابوسفیان مشرکین کے چند گھڑ سواروں کے ساتھ تھا اور وہ خندق کی تنگ جگہ کا چکر لگا رہا تھا اور مسلمان جو اس کنارے پر وہاں بیٹھے تھے، ان کے بارے میں آگاہ ہو چکے تھے۔انہوں نے، مسلمانوں نے ان پر پتھر اور تیر برسائے۔پھر ہم بھی ان کے ساتھ رک گئے اور ہم نے بھی ان پر تیر اندازی کی یہاں تک کہ ہم نے ان مشرکین کو تیر اندازی کرتے ہوئے اپنی جگہ سے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور وہ اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ گئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور میں نے آپ کو نماز کی حالت میں پایا۔پھر میں نے آپ کو اس واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کی سانس کی آواز سنی اور آپ اس وقت تک نہ اٹھے یہاں تک کہ میں نے حضرت بلال کو صبح کی اذان دیتے ہوئے سنا اور فجر کی سفیدی نظر آگئی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسلمانوں کو نماز پڑھائی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ اللہ تعالی عباد بن بشر پر رحم فرمائے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے سب سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے ساتھ چھٹے رہے اور ہمیشہ اس کی حفاظت کرتے رہے۔188 ”حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ انصار میں سے تین اشخاص اپنی افضلیت میں جواب نہیں رکھتے تھے یعنی “ حضرت اسید بن الحضير ، حضرت سعد بن معاذ اور حضرت ” عباد بن بشر۔1894 تحویل قبلہ کے متعلق روایت ہے۔اس میں حضرت عباد بن بشر کا نام بھی آتا ہے۔چنانچہ حضرت تونیکہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم بنو حارثہ میں ظہر یا عصر کی نماز پڑھ رہے تھے اور دور کعت بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی تھیں کہ ایک آدمی آیا اور اس نے آکر ہمیں بتایا کہ قبلہ مسجد حرام کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر ہم نے جگہ تبدیل کر لی اور مرد عورتوں کی جگہ کی طرف منتقل ہو گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ کی طرف۔ایک روایت کے مطابق اس