اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 77

اصحاب بدر جلد 5 77 77 ادھر نجد کے علاقے میں آنحضرت صلی اللہ ہم نے وہاں اُن کی زیادتیوں کی وجہ سے عورتوں کو جو پکڑا تھا تو ان میں سے ایک عورت کا شوہر اس وقت غائب تھا۔اگر وہ ہو تا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہوتی لیکن بہر حال جب وہ واپس آیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوی کو مسلمانوں نے قیدی بنالیا ہے۔اس نے اسی وقت قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھوں گا جب تک محمد صلی یکم کو نقصان نہ پہنچالوں یا ان کے اصحاب کا خون نہ بہالوں۔چنانچہ وہ پیچھا کرتا ہوا اس وادی کے قریب آیا جہاں آنحضرت صلی علیکم فروکش تھے۔جب اس نے وادی کے درہ پر حضرت عباد بن بشر کا سایہ دیکھا تو بولا کہ یہ دشمن کا پہریدار ہے۔اس نے تیر کمان پر چڑھا کر چلا دیا جو حضرت عباد بن بشر کے جسم میں پیوست ہو گیا۔حضرت عباد بن بشر اس وقت نماز میں مصروف تھے۔انہوں نے تیر نکال کر پھینک دیا اور نماز جاری رکھی اس نے دوسرا تیر مارا۔وہ بھی انہیں لگا۔انہوں نے اس کو بھی نکال کے پھینک دیا۔پھر جب تیسر ا تیر مارا تو حضرت عباد بن بشر کا کافی خون بہہ نکلا۔انہوں نے نماز مکمل کی اور حضرت عمار بن یاسر کو جگایا۔جب حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عباد بن بشر کو زخمی حالت میں دیکھا تو پوچھا کہ پہلے کیوں نہیں جگایا۔تو کہنے لگے کہ میں نماز میں سورۃ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔میر ادل نہیں چاہا کہ میں نماز کو توڑوں۔86 یہ تھی ان لوگوں کی عبادتوں کی حالت۔حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عباد بن بشر کو کہتے ہوئے سنا کہ اے ابو سعید ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ آسمان میرے لئے کھول دیا گیا۔پھر ڈھانک دیا گیا۔کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ مجھے شہادت نصیب ہو گی۔میں نے کہا اللہ کی قسم تُو نے بھلائی د بھی ہے۔حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں میں نے دیکھا کہ حضرت عباد بن بشر انصار کو پکار رہے تھے کہ تم لوگ تلواروں کے میان توڑ ڈالو۔اور لوگوں سے جدا ہو گئے۔انہوں نے انصار میں سے چار سو آدمی چھانٹ لئے جن میں کوئی اور شامل نہ تھا جن کے آگے حضرت عباد بن بشر ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت براء بن مالك تھے۔یہ لوگ باب الحدیقہ تک پہنچے اور سخت جنگ کی۔حضرت عباد بن بشر شہید ہوئے۔میں نے ان کے چہرے پر تلوار کے اس قدر نشان دیکھے کہ صرف جسم کی علامت سے پہچان سکا۔187 غزوہ خندق کے موقع پر بھی حضرت عباد بن بشر کو بھر پور خدمت کی توفیق ملی۔چنانچہ حضرت اتم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں خندق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور کسی جگہ بھی آپ سے الگ نہیں ہوئی۔آپ خود بھی خندق کی نگرانی فرماتے تھے۔ہم سخت سردی میں تھے میں آپ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ اٹھے اور جس قدر اللہ نے چاہا آپ نے اپنے خیمے میں نماز پڑھی۔پھر آپ باہر نکلے اور دیکھا۔کچھ دیر کے لیے نظر دوڑائی پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا یہ تو مشرکوں