اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 79
اصحاب بدر جلد 5 79 12 اطلاع دینے والے آدمی کا نام حضرت عباد بن بشر بن قیظی تھا جو کہ قبیلہ بنو حارثہ سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق یہ شخص عباد بن بشر بن وقش تھے جو بنو عبد الاشہل سے تعلق رکھتے تھے۔190 صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قریش مکہ کی طرف سے سہیل بن عمرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی غرض سے آیا تو اس وقت بھی حضرت عباد بن بشر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی خُود پہنے کھڑے تھے اور آپ کے ساتھ ایک اور صحابی حضرت سلمہ بن اسلم بھی تھے۔، سہیل کی آواز بلند ہوئی تو حضرت عباد بن بشر نے اسے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ دوران رور وسلم کے پاس اپنی آواز دھیمی رکھو۔191 حضرت عباد بن بشر ہر غزوے کے موقع پر پیش پیش رہے چنانچہ جب عیینہ بن حصن فزاری، بنو غطفان کے چند سواروں کے ساتھ غابہ پر حملہ آور ہوا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ود ھیل اونٹنیاں چرا کرتی تھیں تو انہوں نے اونٹنیوں کی نگرانیوں پر متعین آدمی کو قتل کر دیا اور اس کی بیوی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں کو ساتھ لے گئے۔جب مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو گھڑ سوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔روایت میں ذکر ہے کہ انصار میں سے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے پہلے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔192 یہ مہم غزوہ ذی قرد کے نام سے مشہور ہے۔اس کی تفصیل صحیح بخاری میں بھی آئی ہے۔یزید بن ابی عبید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمہ بن اکوع سے سناوہ کہتے تھے کہ میں نماز فجر کی اذان سے پہلے مدینہ سے نکل کر غابہ کی طرف گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھیل ونٹنیاں ذی قرد مقام پر چر رہی تھیں۔کہتے تھے کہ عبد الرحمن بن عوف کا ایک لڑکا مجھے رستے میں ملا۔کہنے لگار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں لے گئے ہیں۔میں نے کہا کون لے گئے ہیں ؟ اس نے کہا غطفان کے لوگ۔کہتے تھے کہ یہ سنتے ہی میں نے یا صباحاہ کی آواز تین بار بلند کی اور ان کو پہنچا دی جو مدینہ کے دو پتھر یلے میدانوں میں تھے۔پھر اپنے سامنے بے تحاشا دوڑ پڑا یہاں تک کہ ان لٹیروں کو جا لیا اور وہ جانوروں کو پانی پلانے لگے تھے۔میں نے انہیں تیروں کا نشانہ بنایا اور میں اچھا تیر انداز تھا اور یہ رجز کہتا جاتا تھا۔میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن وہ ہے جس میں معلوم ہو جائے گا کہ دودھ پلانے والیوں نے کسے دودھ پلایا ہے اور میں گرجتے ہوئے یہ رجزیہ شعر پڑھتا تھا یہاں تک کہ ان سے تمام دودھیل اونٹنیاں چھڑا لیں اور ان سے تیس چادریں بھی چھین لیں۔کہتے تھے کہ میں اسی حال میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں سمیت آپہنچے۔میں نے کہا نبی اللہ ! میں نے ان لوگوں کو پانی نہیں پینے دیا اور وہ پیاسے تھے۔آپ ان کی طرف اس وقت دستہ بھیجے۔آپ نے فرمایا: اکوع کے بیٹے !تم نے ان پر قابو پالیا ہے اس لیے نرمی کرو۔