اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 73
73 اصحاب بدر جلد 5 فرمایا کہ اچھا۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورہ سے ابو نائلہ اور دو تین اور صحابیوں کو اپنے ساتھ لیا اور کعب کے مکان پر پہنچے اور کعب کو اس کے اندرون خانہ سے بلا کر کہا کہ ہمارے صاحب یعنی محمد رسول اللہ صلی علیکم ہم سے صدقہ مانگتے ہیں اور ہم تنگ حال ہیں۔کیا تم مہربانی کر کے ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہو۔یہ بات سن کر کعب خوشی سے کود پڑا۔کہنے لگا اللہ ابھی کیا ہے وہ دن دور نہیں جب تم اس شخص سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دو گے۔اس پہ محمد نے جواب دیا خیر ہم تو محمد علی علی ایم کی اتباع اختیار کر چکے ہیں اور اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سلسلہ کا انجام کیا ہوتا ہے مگر تم یہ بتاؤ کہ قرض دو گے یا نہیں۔کعب نے کہا کہ ہاں مگر کوئی چیز رہن رکھو۔محمد نے پوچھا کیا چیز ؟ اس بدبخت نے جواب دیا کہ اپنی عور تیں رہن رکھ دو۔محمد نے غصہ کو دبا کر کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے جیسے آدمی کے پاس ہم اپنی عورتیں رہن رکھ دیں تمہارا تو اعتبار کوئی نہیں۔اس نے کہا اچھا تو پھر بیٹے سہی۔محمد نے جواب دیا یہ بھی ناممکن ہے کہ ہم اپنے بیٹے تمہارے پاس رکھوا دیں۔ہم سارے عرب کا طعن اپنے سر پر نہیں لے البتہ اگر تم مہربانی کرو تو ہم اپنے ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔کعب راضی ہو گیا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے آئے۔جب رات ہوئی تو یہ پارٹی ہتھیار وغیرہ ساتھ لے کر کیونکہ اب وہ کھلے طور پر ہتھیار ساتھ لے جاسکتے تھے کعب کے مکان پر پہنچے اور اس کو گھر سے نکال کر باتیں کرتے کرتے ایک طرف لے آئے اور پھر تھوڑی دیر بعد چلتے چلتے اس کو قابو کر کے وہ صحابہ جو پہلے ہتھیار بند تھے انہوں نے تلوار چلائی اور اسے قتل کر دیا۔بہر حال کعب قتل ہو کر گرا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی وہاں سے رخصت ہو کر آنحضرت صلی اللی علم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ کو اس قتل کی اطلاع دی ہے۔یہود مدینہ کا اپنے سردار کے قتل کو درست تسلیم کرنا اور از سر نو معاہدہ جب کعب کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہودی لوگ سخت جوش میں آگئے اور دوسرے دن صبح کے وقت یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی للہ ہم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مر تکب ہوا ہے۔اور پھر آپ نے اجمالاً ان کو کعب کی عہد شکنی، تحریک جنگ اور فتنہ انگیزی اور فحش گوئی اور سازش مقتل وغیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی ا لم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ کم از کم آئندہ کے لئے ہی امن اور تعاون کے ساتھ رہو اور عداوت اور فتنہ وفساد کے بیچ نہ بود۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لئے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنے اور فتنہ و فساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا۔182