اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 72

اصحاب بدر جلد 5 72 12 سینے جذبات انتقام و عداوت سے بھر دیئے۔اور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک انتہائی درجہ کی بجلی پیدا ہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر اور کعبہ کے پر دے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام کو صفحہ دنیا سے ملیا میٹ نہ کر دیں گے اس وقت تک چین نہ لیں گے۔مکہ کے کافروں سے اس نے یہ عہد لیا۔مکہ میں یہ آتش فشاں فضا پیدا کر کے اس بدبخت نے دوسرے قبائل عرب کا رخ کیا اور قوم بہ قوم پھر کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا۔پھر مدینہ میں واپس آکر مسلمان خواتین پر تشبیب کہی۔یعنی اپنے جوش دلانے والے اشعار میں نہایت گندے اور فحش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا حتی کہ خاندان نبوت کی مستورات کو بھی اپنے او باشانہ اشعار کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا اور ملک میں ان اشعار کا چرچا کر وایا۔آنحضرت صلی ال ولم کو قتل کرنے کی سازش بالآخر اس نے آنحضرت صلی لی ایم کے قتل کی سازش کی اور آپ کو کسی دعوت وغیرہ کے بہانے سے اپنے مکان پر بلا کر چند نوجوان یہودیوں سے آپ کو قتل کروانے کا منصوبہ باندھا۔مگر خدا کے فضل سے اس کی وقت پر اطلاع ہو گئی اور اس کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوئی۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت، تحریک جنگ، فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت صلی اللہ ہم نے جو اس بین الا قوامی معاہدے کی رو سے جو آپ صلی علیم کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد اہالیان مدینہ سے ہوا تھا آپ مدینہ کی جمہوری سلطنت کے صدر اور حاکم اعلیٰ تھے۔ریاست مدینہ کے سربراہ کی طرف سے قتل کا فیصلہ آپ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ کعب بن اشرف اپنی کارروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے اور اپنے بعض صحابیوں کو ارشاد فرمایا کہ اسے قتل کر دیا جاوے۔لیکن چونکہ اس وقت کعب کی فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مدینہ کی فضا ایسی ہو رہی تھی کہ اگر اس کے خلاف باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے قتل کیا جاتا تو مدینہ میں ایک خطر ناک خانہ جنگی شروع ہو جانے کا احتمال تھا جس میں نامعلوم کتناکشت و خون ہونا تھا اور آنحضرت صلیم ہر مکن اور جائز قربانی کر کے بین الا قوامی کشت و خون کو روکنا چاہتے تھے۔جنگ نہیں چاہتے تھے۔آپ صلی للہ ہم نے یہ ہدایت فرمائی کہ کعب و بر ملاطور پر پورا سامنے لا کر قتل نہ کیا جاوے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ کوئی مناسب موقع نکال کر اسے قتل کر دیں اور یہ ڈیوٹی آپ نے قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی محمد بن مسلمہ کے سپرد فرمائی اور انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ کے مشورہ سے کریں۔محمد بن مسلمہ نے عرض کیا یار سول اللہ خاموشی کے ساتھ قتل کرنے کے لئے تو کوئی بات کہنی ہو گی یعنی کوئی عذر وغیرہ بنانا پڑے گا جس کی مدد سے کعب کو اس کے گھر سے نکال کر کسی محفوظ جگہ میں قتل کیا جا سکے۔آپ نے ان عظیم الشان اثرات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو اس موقع پر ایک خاموش سزا کے طریق کو چھوڑنے سے پید اہو سکتے تھے