اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 74
اصحاب بدر جلد 5 یہ قتل جائز تھا۔۔جرم را 74 آپ صلی ای کم نے ان کی باتیں سن کر یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اس کے م گنوائے اور اس کا جو ظاہری نتیجہ نکلنا چاہئے تھا وہ بتایا کہ ان حرکتوں کے بعد اُسے قتل تو ہو نا تھا اور یہود کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ آپ صحیح فرمارہے ہیں تبھی تو نیا معاہدہ کیا تا کہ اس قسم کے واقعات آئندہ نہ ہوں اور پھر پرامن فضا آئندہ کے لیئے قائم ہو جائے۔یہ نہ ہو کہ اب یہودی بدلے لینے شروع کریں پھر مسلمان انہیں سزا دیں۔اگر یہودی قتل کیا جانا غلط سمجھتے کہ نہیں اس طریقے سے غلط کیا گیا ہے تو خاموش نہ ہوتے بلکہ خون بہا کا مطالبہ کرتے۔یہ مطالبہ تو انہوں نے نہیں کیا اور خاموشی دکھائی تو یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ اس وقت کے قانون کے مطابق یہ قتل جائز تھا۔کیونکہ جو فتنہ یہ پھیلا رہا تھا یہ قتل سے بھی بڑھ کر تھا اور یہی ایسے مجرم کی سزا تھی اور ہونی چاہئے تھی اور اس وقت کے رواج کے مطابق جب اس کو سیزا دی گئی تو جیسا کہ میں نے کہا اس طرح سزا دی جا سکتی تھی۔اس رواج کے مطابق اگر سزادی جاسکتی تھی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اور یہودیوں کے رویے سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے تو پھر اعتراض کی بھی گنجائش نہیں۔اگر نہ دی جا سکتی ہوتی تو یہودی یقیناً سوال اٹھاتے کہ مقدمہ چلا کر اور پھر ظاہر کھلے طور پر سزا کیوں نہیں دی گئی۔پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اس کا یہ قتل بالکل جائز تھا اور یہ سزا تھی لیکن یہ بھی واضح ہوناچاہئے کہ آجکل کے شدت پسند گروہ ایسی باتوں سے غلط sense میں بات کرتے ہیں اور اسی طرح حکومتیں بھی اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا قتل کرنا جائز ہے۔اول تو فتنہ اس طرح پھیلایا نہیں جارہا۔جن کو قتل کیا جاتا ہے وہ فتنہ پھیلانے والوں میں نہیں ہیں۔دوسرے صرف وہاں مجرم کو سزادی گئی تھی نہ اس کے خاندان کو نہ کسی اور کو۔یہ لوگ جب قتل کرتے ہیں تو معصوموں کو قتل کر رہے ہیں۔عورتوں کو قتل کر رہے ہیں۔بچوں کو قتل کر رہے ہیں۔کئی لوگوں کو اپانج کر رہے ہیں۔بہر حال آجکل کے قاعدہ اور قانون کے مطابق یہ چیز جائز نہیں اور اُس وقت وہ سزا صحیح تھی اور واجب تھی اور حکومت نے اس کو دی تھی۔صدقات وصول کرنے کا کام سپر د کرنا آنحضرت علی الم نے حضرت عباد بن بشر کو بنو سلیم اور مزینہ کے پاس صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا۔حضرت عباد بن بشر ان کے پاس دس دن مقیم رہے۔وہاں سے واپسی پر بنو مصطلق سے صدقہ وصول کرنے گئے۔وہاں بھی آپ کا قیام دس دن کا رہا۔اس کے بعد آپ واپس مدینہ آگئے۔اسی طرح یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آنحضور صلی علیم نے حضرت عباد بن بشر کو غزوہ حنین کے مال غنیمت کا عامل مقرر فرمایا تھا اور غزوہ تبوک میں آپ کو اپنے پہرے کا نگران مقرر فرمایا تھا۔183 انصار کے تین افضل ترین صحابہ آپ کا شمار فاضل صحابہ کرام میں ہو تا تھا۔حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ انصار میں سے تین