اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 71
71 اصحاب بدر جلد 5 دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا۔ظاہر تو یہ معاہدہ کیا مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور بانی اسلام علیکم کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء و مشائخ کو بہت سی خیرات کر دیا کرتا تھا۔لیکن جب آنحضرت صلی نیلم کی ہجرت کے بعد یہ لوگ اپنے سالانہ وظائف لینے کے لئے اس کے پاس گئے تو اس نے باتوں باتوں میں ان کے پاس آنحضرت صلی علیکم کا ذکر شروع کر دیا اور ان سے آپ کے متعلق مذہبی کتب کی بناء پر رائے دریافت کی۔تو انہوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا۔کعب اس جواب پر بہت بگڑا اور ان سب کو بڑا سخت ست کہا اور رخصت کر دیا اور جو خیرات انہیں دیا کرتا تھاوہ نہ دی۔یہودی علماء کی جب روزی بند ہو گئی تو کچھ عرصہ کے بعد پھر کعب کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں علامات کے سمجھنے میں غلطی لگ گئی تھی۔ہم نے دوبارہ غور کیا ہے۔دراصل محمد صلی علیکم وہ نبی نہیں ہیں جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔اس جواب سے پھر کعب کا مطلب حل ہو گیا اور اس نے خوش ہو کر ان کو سالانہ خیرات دے دی۔ابیہ لکھتے ہیں کہ خیر یہ تو ایک مذہبی مخالفت تھی جو گونا گوار صورت میں اختیار کی گئی لیکن قابل اعتراض نہیں ہو سکتی تھی۔لوگ مذہبی مخالفت کرتے ہیں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے اور نہ اس بناء پر کعب کو زیر الزام سمجھا جا سکتا تھا۔یہ اس کے قتل کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ تو کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اس کو قتل کیا جائے لیکن وجہ کیا بنی۔اس کے بعد کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گئی اور بالاآخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت خطر ناک حالات پیدا ہو گئے۔مة الله مکہ پہنچ کر اسلام کو مٹانے کی قسمیں کھا کر سازشی منصوب۔۔۔دراصل بدر سے پہلے کعب یہ سمجھتا تھا کہ مسلمانوں کا یہ جوش ایمان ایک عارضی چیز ہے اور آہستہ آہستہ یہ سب لوگ خود بخود منتشر ہو کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ آئیں گے لیکن جب بدر کے موقع پر مسلمانوں کو غیر متوقع فتح نصیب ہوئی اور رؤوسائے قریش اکثر مارے گئے تو اس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیادین یو نہی متا نظر نہیں آتا۔چنانچہ بدر کے بعد اس نے اپنی پوری کوشش اسلام کے مٹانے اور تباہ و برباد کرنے میں صرف کر دینے کا تہیہ کر لیا۔اس کے دلی بغض و حسد کا سب سے پہلا اظہار اس موقع پر ہوا جب بدر کی فتح کی خبر مدینہ پہنچی تو اس خبر کو سن کر کعب نے علی رؤوس الا شہاد یہ کہہ دیا کہ خبر بالکل جھوٹی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ محمد صلی للی کم کو قریش کے ایسے بڑے لشکر پر فتح حاصل ہو اور مکہ کے اتنے نامور رنیں خاک میں مل جائیں۔اور اگر یہ خبریج ہے تو پھر اس زندگی سے مرنا بہتر ہے۔یہ کعب نے کہا۔جب اس خبر کی تصدیق ہو گئی اور کعب کو یہ یقین ہو گیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کو وہ استحکام دے دیا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ غیظ و غضب سے بھر گیا اور فور سفر کی تیاری کر کے اس نے مکہ کی راہ لی۔وہاں جا کر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کر دیا۔ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی۔ان کے