اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 70
اصحاب بدر جلد 5 قبول اسلام 70 انہوں نے مدینہ میں حضرت مصعب بن محمید کے ہاتھ پر حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن حضیر سے پہلے اسلام قبول کیا۔مؤاخات مدینہ کے وقت آنحضرت صلی الی یکم نے آپ کو حضرت ابو حذیفہ بن عُتبہ کا بھائی بنایا۔تمام غزوات میں شرکت حضرت عباد بن بشر غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں آنحضور صلی علیم کے ہمراہ شامل ہوئے۔آپ ان اصحاب میں شامل تھے جن کو آنحضور صلی الی یم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔181 یہود کے ایک مفسد اور باقی سردار کعب بن اشرف کا قتل اور اس کے اسباب کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تواریخ سے لے کے سيرة خاتم النبیین میں بھی لکھا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ : بدر کی جنگ نے جس طرح مدینہ کے یہودیوں کی دلی عداوت کو ظاہر کر دیا تھا۔بدر کی جنگ میں مدینہ کے یہودیوں کا خیال تھا کہ کفار جو ہیں یہ اب مسلمانوں کو ختم کر دیں گے۔لیکن جنگ کا پانسا مسلمانوں کے حق میں پلٹا گیا۔مسلمانوں کو فتح ہوئی اور اس وجہ سے یہودیوں کی عداوت بھی ظاہر ہوئی۔مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ بنو قینقاع کی جلاوطنی بھی دوسرے یہودیوں کو اصلاح کی طرف مائل نہ کر سکی اور وہ اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے۔چنانچہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کعب گومذہبا یہودی تھا لیکن دراصل یہو دی ال نہ تھا بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو نبہان کا ایک ہوشیار اور چلتا پرزہ آدمی تھا جس نے مدینہ میں آ کر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے۔ان کا حلیف بن گیا اور بالآخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کر لیا کہ قبیلہ بنو نضیر کے رئیس اعظم ابو رافع بن ابو الحقیق نے اپنی لڑکی اسے رشتہ میں دے دی۔اسی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا حتی کہ بالآخر اسے یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ تمام عرب کے یہودی اسے گویا اپنا سر دار سمجھنے لگ گئے۔کعب ایک وجیہ اور شکیل شخص ہونے کے علاوہ ایک قادر الکلام شاعر اور نہایت دولتمند آدمی تھا۔ہمیشہ اپنی قوم کے علماء اور دوسرے ذی اثر لوگوں کو اپنی مالی فیاضی سے اپنے ہاتھ کے نیچے رکھتا تھا۔مگر اخلاقی نقطہ نظر سے وہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا اور خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔فتنہ و فساد پیدا کرنے کے لئے اسے بڑا کمال حاصل تھا۔جب آنحضرت صلی ال تیم مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں شرکت اختیار کی جو آنحضرت صلی علیہ کم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن و امان اور مشترکہ