اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 67
اصحاب بدر جلد 5 67 چنانچہ دیکھ لو اسلام نے تلوار کے زور سے فتح نہیں پائی بلکہ اسلام نے اس اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ فتح پائی ہے جو دلوں میں اتر جاتی تھی اور اخلاق میں ایک اعلی درجہ کا تغیر پیدا کر دیتی تھی۔ایک صحابی کہتے نہیں میرے مسلمان ہونے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ میں اس قوم میں مہمان ٹھہرا ہوا تھا جس نے غداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے ستر قاری شہید کر دئے تھے۔جب انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو کچھ تو اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور کچھ ان کے مقابلے میں کھڑے رہے۔چونکہ دشمن بہت بڑی تعداد میں تھا اور مسلمان بہت تھوڑے تھے اور وہ بھی نہتے اور بے سروسامان۔اس لئے انہوں نے ایک ایک کر کے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا۔فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ آخر میں صرف ایک صحابی رہ گئے جو ہجرت میں رسول کریم صلی للی نام کے ساتھ شریک تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ان کا نام عامر بن فہیرہ تھا۔بہت سے لوگوں نے مل کر اُن کو پکڑ لیا اور ایک شخص نے زور سے نیزہ ان کے سینے میں مارا۔نیزے کا لگنا تھا کہ ان کی زبان سے بے اختیار یہ فقرہ نکلا کہ فُزُتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا۔" یعنی حملہ کرنے والوں کے ساتھیوں میں سے وہی صحابی وہی جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔کہتے ہیں کہ "جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا تو میں حیران ہوا اور میں نے کہا یہ اپنے رشتہ داروں سے دور ، اپنے بیوی بچوں سے دور اتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہوا اور نیزہ اس کے سینہ میں مارا گیا مگر اس نے مرتے ہوئے اگر کچھ کہا تو صرف یہ کہ " کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کیا یہ شخص پاگل تو نہیں؟ چنانچہ میں نے بعض اور لوگوں سے پوچھا یہ کیا بات ہے اور اس کے منہ سے ایسا فقرہ کیوں نکلا؟ انہوں نے کہا کہ تم نہیں جانتے یہ مسلمان لوگ واقعہ میں پاگل ہیں۔جب یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کر لی۔" یہ کہتے ہیں کہ "میری طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں ان لوگوں کا مرکز جا کر دیکھوں گا اور خود ان لوگوں کے مذہب کا مطالعہ کروں گا۔چنانچہ میں مدینہ پہنچا اور مسلمان ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا کہ ایک شخص کے سینہ میں نیزہ مارا جاتا ہے اور وہ وطن سے کوسوں دور ہے۔اس کا کوئی عزیز اور رشتہ دار اس کے پاس نہیں اور اس کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " جب یہ شخص اس حملے کے بعد مسلمان ہو ا تھا تو اس کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ جب وہ یہ واقعہ سنایا کرتا اور فُرْتُ وَرَبَّ الْكَعْبَةِ کے الفاظ پر پہنچتا تو اس واقعہ کی ہیبت کی وجہ سے یکدم اس کا جسم کانپنے لگ جاتا اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تو حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ " اسلام اپنی خوبیوں کی وجہ سے پھیلا ہے زور سے نہیں۔"176 یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عامر بن فہیرہ کی شہادت کے وقت آپ کے منہ سے جو الفاظ نکلے