اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 68

68 اصحاب بدر جلد 5 ان میں فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ اور فُزَتُ وَاللهِ دونوں الفاظ ملتے ہیں۔دونوں روایتیں ہیں اور یہ الفاظ اور صحابہ کے منہ سے کبھی نکلے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا بھی ذکر کیا ہے اور کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " ہمیں تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جنگوں میں اس طرح جاتے تھے کہ ان کو یوں معلوم ہو تا تھا کہ جنگ میں شہید ہونا ان کے لئے عین راحت اور خوشی کا موجب ہے۔اگر ان کو لڑائی میں کوئی دکھ پہنچتا تھا تو وہ اس کو دکھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ سکھ خیال کرتے تھے۔چنانچہ صحابہ کے کثرت کے ساتھ اس قسم کے واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی راہ میں مارے جانے کو ہی اپنے لئے عین راحت محسوس کیا۔مثلاً وہ حفاظ جو رسول کریم صلی نی یکم نے وسط عرب کے ایک قبیلہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجے تھے ان میں حرام بن ملحان اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔شروع میں تو عامر بن طفیل اور ان کے ساتھیوں نے منافقانہ طور پر ان کی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے ایک خبیث کو اشارہ کیا اور اس نے اشارہ پاتے ہی حرام بن ملحان پر پیچھے سے نیزے کا وار کیا اور وہ گر گئے۔گرتے وقت ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ الله اكبر۔فُرتُ وَرَبَّ الْكَعْبَةِ یعنی مجھے کعبہ کے رب کی قسم امیں نجات پا گیا۔پھر ان شریروں نے باقی صحابہ کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ آور ہو گئے۔اس موقع پر حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ جو ہجرت کے سفر میں رسول کریم صلی اہل علم کے ساتھ تھے ان کے متعلق ذکر آتا ہے بلکہ خود ان کا قاتل جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ ہی یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فہیرہ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا فُرتُ واللہ یعنی خدا کی قسم! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہ کیلئے موت بجائے رنج کے خوشی کا موجب ہوتی تھی۔1771 پس بڑے خوش قسمت تھے وہ لوگ اور خاص طور پر عامر بن فهيرہ جن کو حضرت ابو بکر کی خدمت کا بھی موقع ملا۔آنحضرت صلی علیہ کم کی خدمت کا موقع ملا اور آپ کے ساتھ ہجرت کا بھی موقع ملا اور پھر یہ کہ غار ثور میں آنحضرت صلی علی کیم کو کھانا وغیرہ خوراک مہیا کرنے یا اس زمانے میں خوراک تو بکری کا وہ دودھ تھا، دودھ پہنچانے کے لئے ان کو مقرر کیا گیا اور یہ با قاعدگی سے تین دن وہاں بکری لے جاتے رہے اور بکری کا دودھ وہاں پہنچاتے رہے۔پھر ان کو یہ بھی موقع ملا کہ سُراقہ کو امن کی تحریر انہوں نے لکھ کر دی جو آنحضرت صلی ایم کے ارشاد پر تھی۔اور پھر آنحضرت صلی علی نکم کو ان کی شہادت کی خبر بھی ان کی دعا سے دور بیٹھے ہوئے ملی۔تو یہ وفا کے پتلے تھے جنہوں نے ہر موقع پر وفاد کھائی۔178