اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 479
اصحاب بدر جلد 5 479 اس پر عامر نے سُلیم میں سے بنورِ غل اور ذکوان اور خصیہ وغیرہ کو جو دوسر ا قبیلہ تھا اور جو بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللی کام کے پاس وفد بن کر آئے تھے، اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعرض نہیں۔ہم لڑنے تو آئے نہیں ہم تو رسول اللہ صلی علیم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور تم سے بالکل لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو شہید کر دیا۔1110 تاریخ میں آتا ہے کہ جب جبرئیل علیہ السلام نے بئر معونہ کے شہداء کے بارے میں خبر دی تو آپ کی میڈم نے مُنذر بن عمرو کے بارے میں فرمایا جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے کہ اَعْتَقَ لِيَمُوت۔یعنی حضرت مُنذر بن عمرو نے یہ جانتے ہوئے کہ اب شہادت ہی مقدر ہے اپنے ساتھیوں کی طرح اسی جگہ لڑتے ہوئے شہادت کو قبول کر لیا اس وجہ سے آپ مُعْنِق لِيَمُوتَ یا مُعْنِقُ لِلْمَوْتِ کے لقب سے مشہور 1111 حضرت منذر بن عمرو سے ان لوگوں نے کہا تھا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے لیکن حضرت منذر نے ان کی امان لینے سے انکار کر دیا۔1112 حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو اسید کے ہاں ان کے بیٹے مُنْذِرِ بن ابی اسید پیدا ہوئے تو ان کو نبی کریم صلی علیم کی خدمت میں لایا گیا۔آپ صلی العلیم نے اس بچے کو اپنی ران پر بٹھا لیا۔اس وقت حضرت ابو اسید بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں نبی کریم صلی یہ کام کسی کام میں مشغول ہو گئے۔حضرت ابو اسید نے اشارہ کیا تو لوگ منیر کو آپ صلی یہ کم کی ران پر سے اٹھا کر لے گئے۔جب آپ صلی علیکم کو کام سے فراغت ہوئی تو دریافت فرمایا کہ بچہ کہاں گیا ؟ حضرت ابو اسید نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے اس کو گھر بھیج دیا ہے۔آپ صلی یکم نے پوچھا اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ ابو اسید نے عرض کیا کہ فلاں نام رکھا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔اس کا نام منذر ہے۔آپ صلی ٹیم نے اس دن اس بچے کا نام منید رکھا۔یہ وہ منذر نہیں ہے جن کا ذکر ہو رہا ہے۔صدا الله سة شار حسین نے نبی کریم صلی للی کم کا اس بچے کا نام منذر رکھنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت ابو اسید کے چا کا نام مُنذر بن عمر و تھا، وہی صحابی جن کا ذکر ہو ا جو بئر معونہ میں شہید ہوئے۔ابو اسید کے چچا کا نام تھا منذر بن عمرو۔یہ ابو اسید کے چاتھے جو بئر معونہ میں شہید ہوئے تھے۔پس یہ نام تفاؤل کی وجہ سے رکھا گیا تھا کہ یہ بھی ان کے اچھے جانشین ثابت ہوں۔1113 یہ بھی وجہ ہو گی لیکن آنحضرت صلی للی کم یقینا اپنے پیاروں کے ناموں کو زندہ رکھنے کے لئے بھی ان کے قریبیوں کے نام ان کے نام پر رکھتے ہوں گے۔1114