اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 463
اصحاب بدر جلد 5 463 نے پوچھا کہ تم شادی کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت مقداد نے کہا کہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تو پھر اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دیں۔اس پر حضرت عبد الرحمن شخصے میں آگئے اور انہیں ڈانٹ دیا۔حضرت مقداد نے نبی کریم صلی علی کل سے اس امر کی شکایت کی تو آپ مصلی تم نے فرمایا کہ میں تمہاری شادی کرواتا ہوں۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ ہم نے اپنے چچا حضرت زبیر بن عبد المطلب کی بیٹی ضباعۃ سے ان کی شادی کروادی۔1067 حضرت ضُباعه حضرت زبیر اور عاتکہ بنت ابی وہب کی بیٹی تھیں اور حضور صلی اللہ ہم نے ان کی شادی حضرت مقداد سے جب کروائی تو ان کے ہاں اولاد ہوئی۔ان کے دو بچے پیدا ہوئے کریمہ اور عبد اللہ۔عبد اللہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔آنحضرت صلی یکم نے ضباعہ کو خیبر میں سے چالیس وسق کھجور میں عطا کی تھیں۔اور یہ تقریب ڈیڑھ سو من یا کہہ لیں کہ چھ ہزار کلو کے قریب بنتا ہے۔حضرت مقداد کے ایک بیٹے کا نام معبد بھی تھا۔1070 1069 1068 حضرت مقداد کی بیٹی کریمہ آپ کا حلیہ بیان کرتی ہیں کہ ان کا قد لمبا اور رنگ گندمی تھا۔پیٹ بڑا اور سر میں کثرت سے بال تھے۔وہ اپنی داڑھی کو زردرنگ لگایا کرتے تھے جو خوب صورت تھی۔نہ بڑی تھی اور نہ چھوٹی تھی۔آنکھیں سیاہ تھیں اور ابر و باریک اور لمبے تھے۔1071 قبول اسلام کا واقعہ حضرت مقداد کے قبولِ اسلام کا واقعہ اس طرح ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مقداد ان سات صحابہ میں سے تھے جنہوں نے مکے میں اپنے اسلام کا سب سے پہلے اظہار کیا تھا 1072 حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت اس کی تفصیل پہلے میں حضرت عمار بن یاسر کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔حضرت مقداد کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں میں حضرت مقداد بھی شامل تھے۔کچھ عرصے بعد مکہ واپس آگئے۔جب رسول الله صلى ال کم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو اس وقت حضرت مقداد ہجرت نہ کر سکے۔پھر وہ ملے میں اس وقت تک رہے جب تک کہ آنحضرت صلی الم نے حضرت عبیدہ بن حارث کی سر کردگی میں ایک سریہ بھیجا۔حضرت مقداد اور حضرت عُتبہ بن غزوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں اس غرض سے لشکر میں شامل ہوئے تھے کہ وہ دونوں موقع پا کر مسلمانوں سے جا