اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 462
اصحاب بدر جلد 5 462 قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں نے عمرو کو جنت میں اپنے لنگڑے پن کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا ہے۔1065 297 نام و نسب حضرت مقداد بن عمر و الکندی / مقداد بن اسود 1066 بدری صحابہ کے ذکر میں آج میں حضرت مقداد بن اسود یا مقداد بن عمرو کا ذکر کروں گا۔ان کا اصل نام مقداد بن عمرو ہے حضرت مقداد کے والد کا نام عمرو بن ثعلبہ تھا جو بنی بہراء سے تھے۔البتہ حضرت مقداد کو اسود بن یغوث کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے انہیں بچپن میں اپنا متبنیٰ بنا لیا تھا۔اس لیے مقداد بن اسوڈ کے نام سے معروف ہو گئے۔حضرت مقداد کے والد عمرو بن ثعلبہ قبیلہ بہراء سے تعلق رکھتے تھے جو یمن کے علاقے میں قضاعہ کا ایک قبیلہ تھا۔زمانہ جاہلیت میں ان کے والد عمرو کے ہاتھوں کسی کا قتل ہو گیا جس وجہ سے وہ بھاگ کر حضر مؤت، جو سمندر کے کنارے عدن کے شرقی جانب یمن میں ایک علاقہ ہے وہاں چلے گئے اور وہاں کیندہ قبیلے کے حلیف بن گئے جس بنا پر کندی کہلائے جانے لگے۔وہاں ایک خاتون سے عمرو نے شادی کر لی جس سے حضرت مقداد پیدا ہوئے۔جب مقداد بڑے ہوئے تو ان کا ابو شمر بن حجر کندی سے جھگڑا ہو گیا۔انہوں نے شمر کی ٹانگ تلوار سے کاٹ دی اور پھر مکہ بھاگ آئے اور آسود بن عَبْدِيَغُوث کے حلیف بن گئے۔مقد اڈ نے اپنے والد کو خط لکھا تو وہ بھی پھر مکہ آگئے۔اسود نے مقداد کو اپنا متبنیٰ بنالیا تھا جس وجہ سے ان کو مقداد بن اسود بھی کہا جانے لگا اور عموماً اسی نام سے مشہور ہو گئے لیکن جب آيت أدعُوهُمُ لا با هم (1 حزب ) یعنی ان کو ، بچوں کو ، لے پالکوں کو بھی ان کے باپوں کے نام سے پکارو تو انہیں مقداد بن عمرو کہا جانے لگالیکن شہرت مقداد بن اسود کے نام سے تھی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ اُدعُوهُمْ لا باپ کہ لے پالکوں کو بھی اور جو کسی کے ساتھ منسوب ہیں، اصل نسب جو ہے وہ باپ کا ہے اس لیے باپ سے پکارا جانا چاہیے۔حضرت مقداد کی کنیت ابو معبد کے علاوہ ابو اسود، ابو عمر اور ابو سعید بھی بیان کی جاتی ہے۔شادی اور اولاد ایک دفعہ حضرت مقداد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت عبد الرحمن