اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 31
اصحاب بدر جلد 5 31 حضرت طلحہ نے کہا وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے۔" اس پر حضرت طلحہ نے کہا جو حضرت زبیر کے ساتھ تھے " کہ آپ نے حضرت عثمان کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں۔پھر حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم علی ایم نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم تو علی سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہو گا۔یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے ہر گز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہو گی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ اور زبیر کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا اور جو اُن کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علی کے لشکر پر شب خون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ ہر دھو کا گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھو کا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علی نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو اطلاع دے۔شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور کر دے۔چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا۔مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔حضرت عائشہ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کیے۔حضرت عائشہ نے زور زور سے پکار ناشروع کیا کہ اے لوگو ! جنگ کو ترک کرو۔اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے جو حضرت عائشہؓ کے ارد گرد جمع ہو ا تھا۔ان کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور ام المومنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے۔اور اب یہ حال ہو گیا کہ حضرت عائشہ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہو ناشر وع ہوالیکن اونٹ کی پاک انہوں نے نہ چھوڑی۔حضرت زبیر تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی نے ان کے پیچھے سے جاکر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔حضرت طلحہ عین میدانِ جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔جب جنگ تیز ہو گئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہو گی جب تک حضرت عائشہ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیے اور ہودج اتار کر زمین پر رکھ دیا۔تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علی کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا۔جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہ کی نعش ملی تو حضرت علی نے سخت افسوس کیا۔ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہ کا ہر گز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ