اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 30
اصحاب بدر جلد 5 30 دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے۔اس اختلاف کی وجہ سے طلحہ اور زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔چونکہ انہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علی نے پوری نہ کی تھی اس لیے وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔جب حضرت عائشہ کا اعلان ان کو پہنچا تو وہ بھی ان کے ساتھ جا ملے۔" یعنی حضرت عائشہ کے ساتھ " اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہ اور زبیر نے صرف اکراہ سے اور ایک شرط سے مقید کر کے حضرت علی کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب حضرت علی کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہ اور طلحہ اور زبیر کی طرف بھیجا۔وہ آدمی پہلے حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپؐ کا ارادہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے اس کے بعد اس شخص نے طلحہ اور زبیر کو بھی بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لیے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔"جو وجہ بتائی تھی۔" اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے۔اس کا نتیجہ تو فساد ہے۔اس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور اس کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رسی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزا دی جائے ورنہ اس بدامنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔یہ بات سن کر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی کا یہی عندیہ ہے تو وہ آ جائیں ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔اس پر اس شخص نے حضرت علی کو اطلاع دی اور طرفین کے قائمقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہیے۔جب یہ خبر سبائیوں کو ( یعنی جو عبد اللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمان تھے) پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی۔اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لیے اکٹھی ہوئی۔انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لیے سخت مضر ہو گی کیونکہ اسی وقت تک ہم حضرت عثمان کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانہ کہیں نہیں۔اس لیے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔اتنے میں حضرت علی بھی پہنچ گئے اور آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپؐ کی اور حضرت زبیر کی ملاقات ہوئی۔وقت ملاقات حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لیے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے ؟ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا۔اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے ؟ اس پر رض