اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 32
اصحاب بدر جلد 5 32 شرارت بھی قاتلان عثمان کی ہی تھی اور یہ کہ حضرت طلحہ اور زبیر حضرت علی کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علی کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے۔چنانچہ حضرت علی نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔941 جنگ جمل اور حضرت طلحہ کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ : انبیاء جب دنیا میں آتے ہیں تو ان کے ابتدائی ایام میں جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہی بڑے سمجھے جاتے ہیں۔ہر مسلمان جانتا ہے کہ رسول کریم صلی علیکم کے بعد حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت سعد اور حضرت سعید وہ لوگ تھے جو بڑے سمجھے جاتے تھے۔مگر ان کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو آرام زیادہ میسر آتا تھا بلکہ ان کے بڑے سمجھے جانے کی وجہ یہ تھی کہ دین کی خاطر انہوں نے دوسروں سے زیادہ تکلیفیں برداشت کی تھیں۔حضرت طلحہ رسول کریم صلی ایم کے بعد بھی زندہ رہے اور جب حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ایک گروہ نے کہا کہ حضرت عثمان کے مارنے والوں سے ہمیں بدلہ لینا چاہیے تو اس گروہ کے لیڈر حضرت طلحہ حضرت زبیر اور حضرت عائشہ تھے لیکن دوسرے گروہ نے کہا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ چکا ہے۔آدمی مرا ہی کرتے ہیں۔سر دست ہمیں تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا چاہیے تاکہ اسلام کی شوکت اور اس کی عظمت قائم ہو۔بعد میں ہم ان لوگوں سے بدلے لے لیں گے۔اس گروہ کے لیڈر حضرت علی تھے۔یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ نے الزام لگایا کہ علی ان لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا ہے اور حضرت علی نے الزام لگایا کہ ان لوگوں کو اپنی ذاتی غرضیں زیادہ مقدم ہیں۔اسلام کا فائدہ ان کو مد نظر نہیں۔گویا اختلاف اپنی انتہائی صورت تک پہنچ گیا اور پھر آپس میں جنگ بھی شروع ہوئی۔ایسی جنگ جس میں حضرت عائشہ نے لشکر کی کمان کی۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی اس لڑائی میں شامل تھے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے کہ شروع میں مخالفین میں شامل تھے۔پھر حضرت زبیر تو حضرت علی کی بات سن کر علیحدہ ہو گئے تھے اور دوسرے بھی صلح کرنا چاہتے تھے لیکن پھر مخالفین جو تھے انہوں نے ، اور جو منافقین تھے یاجو فتنہ پرداز تھے انہوں نے جو اور جو پھر فتنہ ڈالا لیکن بہر حال دو گروہ تھے یہ اور لڑائی میں شامل تھے اور دونوں فریق میں جنگ جاری تھی تو ایک صحابی حضرت طلحہ کے پاس آئے اور ان سے کہا طلحہ تمہیں یاد ہے کہ فلاں موقع پر میں اور تم رسول کریم صلی ال نیم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول کریم صلی الی یکم نے فرمایا تھا طلحہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اور لشکر میں ہو گے اور علی اور لشکر میں ہو گا اور علی حق پر ہو گا اور تم غلطی پر ہو گے۔حضرت طلحہ نے سنا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے کہا ہاں! مجھے یہ بات یاد آگئی ہے اور پھر اُسی وقت لشکر سے نکل کر چلے گئے۔جب وہ لڑائی چھوڑ کر جارہے تھے تاکہ رسول کریم صلی علیکم کی بات پوری کی جائے تو ایک