اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 402
رض رض 402 اصحاب بدر جلد 5 کہ تمام قبیلہ مسلمان ہو گیا اور سعد اور اسید نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کے بت نکال کر توڑے۔سعد بن معاذ اور اسید بن الحضیر جو اس دن مسلمان ہوئے دونوں چوٹی کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور انصار میں تو " حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " انصار میں تو لاریب ان کا بہت ہی بلند پایہ تھا۔" کوئی شک نہیں اس میں، بہت بلند تھے۔"بالخصوص سعد بن معاذ کو تو انصار مدینہ میں وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو مہاجرین مکہ میں حضرت ابو بکر کو حاصل تھی۔یہ نوجوان نہایت درجه مخلص، نهایت درجه وفادار اور اسلام اور بانی اسلام کا ایک نہایت جاں نثار عاشق نکلا اور چونکہ وہ اپنے قبیلہ کارئیس اعظم بھی تھا اور نہایت ذہین تھا اسلام میں اسے وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو صرف خاص بلکہ آخض صحابہ کو حاصل تھی اور " حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " اور لاریب۔اس کی جوانی کی موت پر آنحضرت صلیم کا یہ ارشاد کہ سعد کی موت پر تو رحمن کا عرش بھی حرکت میں آگیا ہے۔ایک گہری صداقت پر مبنی تھا۔غرض اس طرح سرعت کے ساتھ اوس و خزرج میں اسلام پھیلتا گیا۔یہود خوف بھری آنکھوں کے ساتھ یہ نظارے دیکھتے تھے اور دل ہی دل میں یہ کہتے تھے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔"920 رض حضرت مصعب کی تبلیغ سے بہت سے افراد مسلمان ہوئے۔آپ سن تیرہ نبوی میں حج کے موقعے پر مدینے سے ستر انصار کا وفد لے کر مکہ روانہ ہوئے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں، مختلف روایتوں سے لے کر ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ : " اگلے سال یعنی تیرہ نبوی کے ماہ ذی الحجہ میں حج کے موقعہ پر اوس اور خزرج کے کئی سو آدمی مکہ میں آئے۔ان میں ستر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے اور یا اب مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اللی کام سے ملنے کے لیے مکہ آئے تھے۔مصعب بن عمیر بھی ان کے ساتھ تھے۔مصعب کی ماں زندہ تھی اور گو مشرکہ تھی مگر ان سے بہت محبت کرتی تھی۔جب اسے ان کے آنے کی خبر ملی تو اس نے ان کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھ سے آکر مل جاؤ پھر کہیں دوسری جگہ جانا۔مصعب نے جواب دیا کہ میں ابھی تک رسول اللہ صلی الی یم سے نہیں ملا۔آپ سے مل کر پھر تمہارے پاس آؤں گا۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی علیم کے پاس حاضر ہوئے۔آپ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر اپنی ماں کے پاس گئے۔" یہ بات سن کے ، یہ دیکھ کر کہ پہلے مجھے ملنے نہیں آئے " وہ بہت جلی بھی بیٹھی تھی۔ان کو دیکھ کر بہت روئی اور بڑا شکوہ کیا۔مصعب نے کہا ماں! میں تم سے ایک بڑی اچھی بات کہتا ہوں جو تمہارے واسطے بہت ہی مفید ہے اور سارے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔اس نے کہا وہ کیا ہے ؟ مصعب نے آہستہ سے جواب دیا۔بس یہی کہ بت پرستی ترک کر کے مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی علی ایم پر ایمان لے آؤ۔وہ پکی مشرکہ تھی سنتے ہی شور مچادیا کہ مجھے ستاروں کی قسم ہے میں تمہارے دین میں کبھی داخل نہ ہوں گی اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مُصعب کو پکڑ کر قید کر لیں مگر وہ بھاگ کر نکل گئے۔92111