اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 403

اصحاب بدر جلد 5 مدینہ میں حضرت مصعب کی خدمات 403 حضرت مصعب بن عمیر کے متعلق حضرت مصلح موعود نے یہ ذکر کرتے ہوئے کہ مدینے کے مبلغ کے طور پر ان کو بھیجا گیا تھا اور ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "رسول اللہ صلی الم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بار بار خبر دی جارہی تھی کہ تمہارے لیے ہجرت کا وقت آ رہا ہے اور آپ پر یہ بھی کھل چکا تھا کہ آپ کی ہجرت کا مقام ایک ایسا شہر ہے جس میں کنویں بھی ہیں اور کھجوروں کے باغ بھی پائے جاتے ہیں۔پہلے آپ نے یمامہ کی نسبت خیال کیا کہ شاید وہ ہجرت کا مقام ہو گا مگر جلد ہی یہ خیال آپ کے دل سے نکال دیا گیا اور آپ اس انتظار میں لگ گئے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق جو شہر بھی مقدر ہے وہ اپنے آپ کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لیے پیش کرے گا۔اسی دوران میں حج کا زمانہ آگیا۔عرب کے چاروں طرف سے لوگ مکہ میں حج کے لیے جمع ہونے شروع ہوئے۔محمد رسول اللہ صلی للی یکم اپنی عادت کے مطابق جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے تھے ان کے پاس جا کر انہیں توحید کا وعظ سنانے لگ جاتے تھے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دیتے تھے اور ظلم اور بدکاری اور فساد اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔بعض لوگ آپ کی بات سنتے اور حیرت کا اظہار کر کے جد ا ہو جاتے۔بعض باتیں سن رہے ہوتے تو مکہ والے آکر ان کو وہاں سے ہٹا دیتے تھے۔بعض جو پہلے سے مکہ والوں کی باتیں سن چکے ہوتے وہ ہنسی اڑا کر آپ سے جدا ہو جاتے۔اسی حالت میں آپ منی کی وادی میں پھر رہے تھے کہ چھ سات آدمی جو مدینہ کے باشندے تھے آپ کی نظر پڑے۔آپ نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کس قبیلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ خزرج قبیلہ کے ساتھ۔آپ نے کہا کہ وہی قبیلہ جو یہودیوں کا حلیف ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا کیا آپ لوگ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری باتیں سنیں گے ؟ ان لوگوں نے چونکہ آپ کا ذکر سنا ہوا تھا اور دل میں آپ کے دعویٰ سے کچھ دلچسپی تھی، انہوں نے آپ کی بات مان لی اور آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سننے لگ گئے۔آپ نے انہیں بتایا کہ خدا کی بادشاہت قریب آرہی ہے۔بت اب دنیا سے مٹادیے جائیں گے۔توحید کو دنیا میں قائم کر دیا جائے گا۔نیکی اور تقویٰ پھر ایک دفعہ دنیا میں قائم ہو جائیں گے۔کیا مدینہ کے لوگ اس عظیم الشان نعمت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے اور کہا آپ کی تعلیم کو تو ہم قبول کرتے ہیں۔باقی رہا یہ کہ مدینہ اسلام کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں اس کے لیے ہم اپنے وطن جا کر اپنی قوم سے بات کریں گے پھر ہم دوسرے سال اپنی قوم کا فیصلہ آپ کو بتائیں گے۔یہ لوگ واپس گئے اور انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں آپ کی تعلیم کا ذکر کرناشروع کیا۔اس وقت مدینہ میں دو عرب قبائل اوس اور خزرج بستے تھے اور تین یہودی قبائل یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر اور بنو قینقاع۔اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی تھی۔بنو قریظہ اور بنو نضیر اوس کے ساتھ اور بنو قینقاع خزرج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔مدتوں کی لڑائی کے بعد ان میں یہ احساس پید اہورہا تھا کہ ہمیں