اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 401
اصحاب بدر جلد 5 401 روکنے کے حضرت مصعب کو روک دو کہ ہمارے لوگوں میں یہ بے دینی نہ پھیلائیں اور اسعد سے بھی کہہ دو کہ یہ طریق اچھا نہیں ہے۔اُسید قبیلہ عبد الاشہل کے ممتاز رؤساء میں سے تھے۔حتی کہ ان کا والد جنگ بعاث میں تمام اوس کا سر دار رہ چکا تھا اور سعد بن معاذ کے بعد اسید بن الحضیر کا بھی اپنے قبیلہ پر بہت اثر تھا۔چنانچہ سعد کے کہنے پر وہ مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کے پاس گئے اور مصعب سے مخاطب ہو کر غصہ کے لہجے میں کہا۔تم کیوں ہمارے آدمیوں کو بے دین کرتے پھرتے ہو ؟ اس سے باز آجاؤ ورنہ اچھا نہ ہو گا۔پیشتر اس کے کہ مصعب کچھ جواب دیتے اسعد نے آہستگی سے مصعب سے کہا کہ یہ اپنے قبیلہ کے ایک با اثر رکیں ہیں۔ان سے بہت نرمی اور محبت سے بات کرنا۔چنانچہ مصعب نے ڑے ادب اور محبت کے رنگ میں اسید سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں بلکہ مہربانی فرما کر تھوڑی دیر تشریف رکھیں اور ٹھنڈے دل سے ہماری بات سن لیں اور اس کے بعد کوئی رائے قائم کریں۔اُسید اس بات کو معقول سمجھ کر بیٹھ گئے۔"سعید فطرت تھے ، " اور مصعب نے انہیں قرآن شریف سنایا اور بڑی محبت کے پیرایہ میں اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا۔اُسید پر اتنا اثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گئے اور پھر کہنے لگے کہ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے کہ جو اگر ایمان لے آیا تو ہمارا سارا قبیلہ مسلمان ہو جائے گا۔تم ٹھہرو میں اسے ابھی یہاں بھیجتا ہوں۔سعد بن معاذ کا قبول اسلام یہ کہہ کر اسید اٹھ کر چلے گئے اور کسی بہانہ سے سعد بن معاذ کو مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہ کی طرف بھجوا دیا۔سعد بن معاذ آئے اور بڑے غضبناک ہو کر اسعد بن زرارہ سے کہنے لگے کہ دیکھو اسعد تم اپنی قرابت داری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔" ابھی میں رشتہ داری کی وجہ سے چپ ہوں لیکن ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ۔" اس پر مصعب نے اسی طرح نرمی اور محبت کے ساتھ ان کو ٹھنڈا کیا۔" جیسے پہلے کو کیا تھا اور کہا کہ آپ ذرا تھوڑی دیر تشریف رکھ کر میری بات سن لیں اور پھر اگر اس میں کوئی چیز قابل اعتراض ہو تو (بے شک ) رد کر دیں۔سعد نے کہا۔ہاں یہ مطالبہ تو معقول ہے اور اپنا نیزہ ٹیک کر بیٹھ گئے اور مصعب نے اسی طرح پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی اور پھر اپنے دلکش ، رنگ میں اسلامی اصول کی تشریح کی۔ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یہ بت بھی رام تھا۔" یعنی سعد بن معاذ جو تھے وہ بھی یہ باتیں سن کے رام ہو گئے۔" چنانچہ سعد نے مسنون طریق پر غسل کر کے کلمہ شہادت پڑھ دیا اور پھر اس کے بعد سعد بن معاذ اور اسید بن الحضیر دونوں مل کر اپنے قبیلہ والوں کی طرف گئے اور سعد نے ان سے مخصوص عربی انداز میں پوچھا کہ اے بنی عبد الاشہل ! تم مجھے کیسا جانتے ہو ؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہمارے سردار اور سردار ابن سر دار ہیں اور آپ کی بات پر ہمیں کامل اعتماد ہے۔سعد نے کہا تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جب تک تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لاؤ۔اس کے بعد سعد نے انہیں اسلام کے اصول سمجھائے اور ابھی اس دن پر شام نہیں آئی تھی