اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 274

اصحاب بدر جلد 5 بیعت عقبہ اولیٰ 274 اس کی کچھ تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیر و خاتم النبیین میں لکھی ہے کہ کس طرح آنحضرت صلی ای کم کی کوششوں سے مدینہ میں اسلام کا پیغام پہنچاتھا۔فرماتے ہیں: اس کے بعد آنحضرت صلی الی یوم حسب دستور مکہ میں اشهر حُرُمہ کے اند ر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ آپ کو معلوم ہوا کہ یثرب کا ایک مشہور شخص سوئید بن صامت مکہ میں آیا ہوا ہے۔شوید مدینہ کا ایک مشہور شخص تھا اور اپنی بہادری اور نجابت اور دوسری خوبیوں کی وجہ سے کامل کہلا تا تھا اور شاعر بھی تھا۔آنحضرت صلی للی یکم اس کا پتہ لیتے ہوئے اس کے ڈیرے پر پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔اس نے کہا کہ میرے پاس بھی ایک خاص کلام ہے جس کا نام مجله لقمان ہے۔آپ صلی الیم نے کہا کہ جو کلام تمہارے پاس ہے مجھے بھی اس کا کوئی حصہ سناؤ۔جس پر شوید نے اس صحیفہ کا ایک حصہ آپ کو سنایا۔آپ نے اس کی تعریف فرمائی یعنی جو کچھ سنایا گیا تھا کہ اس میں اچھی باتیں ہیں۔مگر فرمایا کہ میرے پاس جو کلام ہے وہ بہت بالا اور ارفع ہے، بہت اونچے مقام کا ہے۔چنانچہ پھر آپ نے اسے قرآن شریف کا ایک حصہ سنایا۔جب آپ ختم کر چکے تو اس نے کہاہاں واقعی یہ بہت اچھا کلام ہے۔اور گو وہ مسلمان نہیں ہوا مگر اس نے فی الجملہ آپ صلی علیم کی تصدیق کی اور آپ کو جھٹلایا نہیں۔لیکن افسوس ہے کہ مدینہ میں واپس جا کر اسے زیادہ مہلت نہیں ملی اور وہ جلد ہی کسی ہنگامہ میں قتل ہو گیا۔یہ جنگ بعاث سے پہلے کی بات ہے۔اس کے بعد اسی زمانہ کے قریب یعنی جنگ بعاث سے قبل آپ صلی للہ ہم پھر ایک دفعہ حج کے موقع پر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ اچانک آپ کی نظر چندا اجنبی آدمیوں پر پڑی۔یہ قبیلہ اوس کے تھے اور اپنے بت پرست رقیبوں یعنی خزرج کے خلاف قریش سے مدد طلب کرنے آئے تھے۔یہ بھی جنگ بعاث سے پہلے کا واقعہ ہے۔گویا یہ طلب مدد اسی جنگ کی تیاری کا ایک حصہ تھی۔آنحضرت صلی یہ کام ان کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔آپ صلی علیہم کی تقریر سن کر ایک نوجوان شخص جس کا نام ایائش تھابے اختیار بول اٹھا کہ خدا کی قسم ! جس طرف یہ شخص یعنی محمدعلی ای کم ہم کو بلاتا ہے وہ اس سے بہتر ہے جس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں۔یعنی جنگ کے لئے مدد طلب کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہمارار جوع ہو۔مگر اس گروہ کے سردار نے ایک کنکروں کی مٹھی اٹھا کر اس کے منہ پر ماری اور کہا چپ رہو۔ہم اس کام کے لئے یہاں نہیں آئے اور اس طرح اس وقت یہ معاملہ یوں ہی دب کر رہ گیا۔مگر لکھا ہے کہ ایاس جب وطن واپس گیا، جب فوت ہونے لگا تو اس کی زبان پر کلمہ توحید جاری تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب جنگ بعاث ہو چکی تو 11 نبوی کے ماہ رجب میں آنحضرت صلی الی یکم کی مکہ میں بیشترب والوں سے پھر ملاقات ہوئی۔یہ نبوت کے گیارھویں سال کی بات ہے۔آپ نے حسب و نسب پوچھا تو معلوم ہوا کہ قبیلہ خزرج کے لوگ ہیں اور یثرب سے آئے ہیں۔آنحضرت صلی ا ہم نے