اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 275
275 اصحاب بدر جلد 5 نہایت محبت کے لہجہ میں کہا کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں ؟" انہوں نے کہا ہاں ! آپ کے کہتے ہیں ؟" آپ بیٹھ گئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن شریف کی چند آیات سنا کر اپنے مشن سے آگاہ کیا۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا یہ موقع ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہود ہم سے سبقت لے جائیں۔یہ کہہ کر سب مسلمان ہو گئے۔یہ چھ اشخاص تھے جن کے نام یہ ہیں: 1۔ابو امامہ اسعد بن زرارہ جو بنو نجار سے تھے اور تصدیق کرنے میں سب سے اوّل تھے۔2۔عوف بن حارث یہ بھی بنو نجار سے تھے جو آنحضرت صلی ا یلم کے دادا عبد المطلب کے نتھیال کے قبیلہ سے تھے۔3۔رافع بن مالك جو بنو زُریق سے تھے۔اب تک جو قرآن شریف نازل ہو چکا تھا وہ اس موقع پر آنحضرت صلی می کنم نے ان کو عطا فرمایا۔4۔قطبه بن عامر جو بنی سلمہ سے تھے۔5۔عُقبہ بن عامر جو بنی حرام سے تھے، ( یہ انہیں کا ذکر ہو رہا ہے۔اس سارے واقعہ میں ، یہ عقبہ بن عامر بدری صحابی تھے۔اور 6۔جابر بن عبد اللہ بن رئاب جو بنی عبید سے تھے۔اس کے بعد یہ لوگ آنحضرت صلی علی یکم سے رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر رکھا ہے۔ہم میں آپس میں بہت نا اتفاقیاں ہیں۔ہم یثرب میں جا کر اپنے بھائیوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے۔کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے ہم کو پھر جمع کر دے۔پھر ہم ہر طرح آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چر چاہونے لگا۔یہ سال آنحضرت صلی الم نے مکہ میں یثرب والوں کی طرف سے ظاہری اسباب کے لحاظ سے ایک بیم و رجا کی حالت میں گزارا۔آپ اکثر یہ خیال کیا کرتے تھے کہ دیکھیں ان کا کیا انجام ہو تا ہے اور آیا یثرب میں کامیابی کی کوئی امید بندھتی ہے یا نہیں۔مسلمانوں کے لئے بھی یہ زمانہ ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بیم و رجا کا زمانہ تھا۔کبھی امید کی کرن ہوتی تھی۔کبھی مایوسی ہوتی تھی۔وہ دیکھتے تھے کہ سرداران مکہ اور رؤسائے طائف آنحضرت صلی علیم کے مشن کو سختی کے ساتھ رڈ کر چکے ہیں۔دیگر قبائل بھی ایک ایک کر کے اپنے انکار پر مہر لگا چکے تھے۔مدینہ میں امید کی ایک کرن پید اہوئی تھی مگر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کرن مصائب و آلام کے طوفان اور شدائد کی آندھیوں میں قائم رہ سکے گی۔دوسری طرف مکہ والوں کے مظالم دن بدن زیادہ ہو رہے تھے اور انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اسلام کو مٹانے کا بس یہی وقت ہے مگر اس نازک وقت میں بھی جس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیا آنحضرت صلی اللہ کم اور آپ کے مخلص صحابی ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم تھے اور آپ کا یہ عزم و استقلال بعض اوقات آپ کے مخالفین کو بھی حیرت میں ڈال دیتا تھا یہ شخص کس قلبی طاقت کا مالک ہے کہ کوئی چیز اسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔بلکہ اس زمانہ میں صلی علیم کے الفاظ میں خاص طور پر ایک رعب اور جلال کی کیفیت پائی جاتی تھی۔آنحضرت صلی ال لم جب بھی بات کرتے تھے تو آپ کی باتوں میں بڑار عب اور جلال ہو تا تھا اور جدة نحضرت ا